.

عرب لیگ کے آرمی چیفس کا علاقائی فوج کی تشکیل پر غور

نئی مشترکہ فوج کا مطلب نیا اتحاد یا کسی ملک مخالف فورس نہیں ہے: نبیل العربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے رکن ممالک کی مسلح افواج کے سربراہان کا مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اجلاس ہورہا ہے جس میں وہ داعش سمیت سخت گیر جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک مشترکہ فوج کے قیام پر غور کررہے ہیں۔

عرب لیگ کے سربراہان نے مارچ میں مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں منعقدہ اجلاس میں ایک مشترکہ علاقائی فوج کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔اس اجلاس میں رکن ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ اس فوج کی ہیئت ترکیبی ،تشکیل اور قواعد وضوابط سے متعلق چارماہ کے اندر اپنی تجاویز پیش کریں۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اجلاس کی مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد حجازی صدارت کررہے ہیں۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ''ایک مشترکہ عرب فوج کی تشکیل کا مطلب کسی بھی طرح ایک نئے اتحاد کا قیام یا کسی ملک مخالف فوج نہیں ہے بلکہ یہ فورس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گی اور خطے میں امن ،سلامتی اور استحکام کے لیے کام کرے گی''۔

واضح رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی ہی نے تنظیم کے رکن ممالک کی ایک مشترکہ فوج تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی۔انھوں نے لیبیا میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام( داعش) کے جنگجوؤں کے ہاتھوں مصر سے تعلق رکھنے والے اکیس قبطی عیسائیوں کے اندوہناک قتل کے بعد یہ تجویز پیش کی تھی۔اس کو یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں دس ممالک کی فضائی مہم سے تقویت ملی تھی اور عرب ممالک میں ایسے جنگجو گروپوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فوج کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس کی گئی ہے۔

داعش نے اتوار کے روز لیبیا میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس عیسائیوں کو ہلاک کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی تھی۔داعش کے جنگجوؤں نے ان میں سے بارہ افراد کو بے دردی سے ذبح کردیا تھا اور سولہ کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔