.

شام میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کی فتوحات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے جہادی جنگجو گروپوں نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے مقابلے میں میدان جنگ میں فتوحات حاصل کی ہیں اور انھوں نے چار چیک پوائںٹس سے اسدی فوج کو پسپا کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے جسرالشغور شہر کے ارد گرد چار چیک پوائنٹس پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ جمعہ کی صبح سے اس شہر کے نواح میں اسدی فوج اور النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔سرکاری فوج نے باغی جنگجوؤں کو پسپا کرنے کے لیے چونتیس فضائی حملے کیے ہیں۔شامی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے شہر کے نواح میں النصرۃ محاذ نے متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں اور اس نے شہر میں پندرہ خودکش بمبار بھیجے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ اسلامی جنگجوؤں کے اتحاد نے صبح کے وقت تین چیک پوائنٹس پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کی شہر کے نواح میں تین اور چیک پوائنٹس پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔ان خونریز جھڑپوں میں تیرہ باغی جنگجو اور دس سرکاری فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

النصرۃ محاذ نے ٹویٹر اور فیس بُک پر اپنے اکاؤنٹس پر دھماکا خیز مواد اور تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ جسر الشغور کو جلد بشارالاسد کی فوج سے پاک کردے گا۔

شامی انقلابی جنرل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق باغی جنگجوؤں نے شہر کے شمال کی جانب سے حملہ کیا تھا جس کے بعد سرکاری فوجی دفاعی حکمت عملی پر مجبور ہوگئے۔واضح رہے کہ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادیوں کے گذشتہ ماہ صوبائی دارالحکومت ادلب پر قبضے کے بعد شامی حکومت نے جسر الشغور کو عارضی صوبائی دارالحکومت قرار دے دیا تھا۔اب سرکاری فوج کا ادلب کے جنوب میں ایک چھوٹے قصبے الریحہ اور ایک فوجی اڈے آل مستعمح پر ہی کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

لیکن اگر باغیوں کا جسر الشغور پر مکمل طور پر قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر ادلب اور صدر بشارالاسد کے آبائی صوبے اللاذقیہ کے درمیان مرکزی شاہراہ بھی ان کے کنٹرول میں آجائے گی اور حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیں گی کیونکہ وہ اس کے بعد اللاذقیہ پر حملوں کا آغاز کرسکتے ہیں۔