.

شام: اسلامی جنگجوؤں کا فوجی اڈے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے جہادی جنگجو گروپوں کے اتحاد نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ایک اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

النصرۃ محاذ کے ایک جنگجو نے بارود سے بھرا ایک ٹرک قرمید میں واقع فوجی اڈے میں داخل ہونے کے بعد دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس کے بعد دوسرے جنگجو اس کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ایک باغی گروپ احرارالشام کے کمانڈر شیخ حسام ابوبکر نے اسکائپ کے ذریعے بتایا ہے کہ دوٹن بارود سے لدا ہوا ٹرک کیمپ کے ایک داخلی دروازے سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس کے بعد کیمپ میں جنگجوؤں کا داخلہ آسان ہوگیا تھا۔

شام کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے باغیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے اور ان پر فضائی حملے کیے جارہے ہیں لیکن اس نے فوجی اڈے پر باغیوں کے قبضے کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

اگر قرمید کیمپ پر قبضے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس علاقے میں شامی فوج کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔اس سے باغیوں کے لیے نزدیک واقع مستعومہ آرمی بیس پر قبضے کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی۔اس فوجی اڈے پر اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

صوبہ ادلب میں مزاحمت کار صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو ان کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے پیش قدمی کررہے ہیں۔اگر ان کا ادلب پر مکمل کنٹرول ہوجاتا ہے تو پھر ان کے بشارالاسد کے آبائی صوبے اللاذقیہ کی جانب پیش قدمی آسان ہوجائے گی۔

اسلامی مزاحمت کاروں نے گذشتہ ماہ صوبائی دارالحکومت ادلب شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے جیش الفتح کے نام سے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا تھا۔اس میں شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ ،احرارالشام اور جند الاقصیٰ شامل ہیں لیکن اس میں ان کا متحارب جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) شامل نہیں ہے۔ہفتے کے روز النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے ادلب ہی میں واقع شہر جسرالشغور پر قبضہ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادیوں کے گذشتہ ماہ ادلب شہر پر قبضے کے بعد شامی حکومت نے جسر الشغور کو عارضی صوبائی دارالحکومت قرار دے دیا تھا۔اب سرکاری فوج کا ادلب کے جنوب میں ایک چھوٹے قصبے الریحہ اور ایک فوجی اڈے آل مستعمح پر ہی کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔