.

عراق: الرمادی میں لڑائی،30 پولیس افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے جاری شدید لڑائی میں تیس پولیس افسر اور اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبہ الانبار کے پولیس سربراہ میجر جنرل کاظم الفہداوی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ الرمادی شہر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی فورسز اور داعش کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔انھوں نے تیس پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک سو سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

داعش نے گذشتہ سال جون سے الانبار کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور انھوں نے صوبائی دارالحکومت اور دوسرے علاقوں پر قبضے کے لیے گذشتہ ہفتے یلغار کی تھی۔انھوں نے ہفتے کے روز اردن کی سرحد کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگ طربیل پر تین خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان بم دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

الرمادی کے مشرقی حصے میں جمعہ کے روز جھڑپوں اور بم دھماکوں میں دو سینیر افسروں سمیت تیرہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔عراق کے وزیردفاع خالد العبیدی نے ان ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی لیکن انھوں نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا تھا کہ جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ فوجی مارے گئے ہیں۔

صوبہ الانبار میں عراقی سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات یا افواہوں کے بعد دارالحکومت بغداد میں مظاہرے کیے گئے ہیں اور مظاہرین نے وزیر دفاع خالد العبیدی سے پارلیمان میں پوچھ تاچھ یا پھر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

الانبار میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے بعد گذشتہ دو ہفتے کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ عراق میں جنوری 2014ء کے بعد کم سے کم ستائیس لاکھ افراد لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں سے چار لاکھ صوبہ الانبار میں بے گھر ہوئے تھے۔