.

بشار کی شام پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی، حکومت کا زوال شروع!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے موقر اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور پورے ملک پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے جس کے بعد اب سقوط دمشق نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے۔

امریکی اخبار نے شام کی موجودہ زمینی حالات کا ایک جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ محاذ جنگ پر صدر بشارالاسد کے وفاداروں کو باغیوں کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کا سامنا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ حالیہ چند ماہ میں باغیوں نے پیش رفت کی ہے پچھلے چار سال میں کبھی نہیں کی۔ بشارالاسد کی حامی فوجیں باغیوں سے علاقے واپس لینے میں اب بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔

رپورٹ میں ادلب گورنری کےعلاقے جسرالشغور میں باغیوں کے حالیہ قبضے کو شامی حکومت کی گرفت کی کمزوری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ اور دوسرے باغی گروپوں نے ادلب شہر اور جسرالشغور کے بیشتر علاقوں پر چند ہفتوں کی لڑائی میں ڈرامائی انداز میں قبضہ کر کے اسدی فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ "ادلب کے مرکز اور جسرالشغور پر شامی باغیوں کے قبضے کے بعد حمص اور حماہ جیسے شہروں کی طرف باغیوں کی فاتحانہ پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں اسد رجیم کی گرفت کمزور ہونے کے باوجود سقوط دمشق اتنا جلدی ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ صدر بشارالاسد نے دمشق کو ایک مضبوط قلعہ بنا رکھا ہے جس کی فصیلوں کو توڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔ نیز دمشق، باغیوں کا فوری ہدف بھی نہیں۔ انقلابی تنظیموں کے بیشتر مفادات دمشق کے آس پاس کےعلاقوں میں ہیں جہاں سے وہ دمشق کی سپلائی لائن کو منقطع کر سکتے ہیں۔

انٹرنیشنل اسٹریٹیجک ریسرچ انسٹییٹوٹ سے وابستہ تجزیہ نگار ایمیلی ھوکائم کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اب وہ زیادہ عرصے تک اقتدار پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے پاس چند ہزار فوجیوں اور کچھ اسلحہ کے ذخائر کے سوا اور کچھ نہیں بچا ہے۔ جنگ میں بشارالاسد غیرمعمولی اور ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور اب وہ اپنا نقصان چھپا بھی نہیں سکتے ہیں۔

مسز کائم کا کہنا تھا کہ ادلب میں اپوزیشن فورسز کے قبضے کے بعد شام کے جنوبی شہروں بالخصوص حماہ اور حمص میں باغیوں کی پیش رفت کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ اب وہ بشارالاسد کی فوج کے مرکز الاذقیہ پر بھی دستک دینے لگے ہیں۔ جنوب کی سمت سے درعا شہر بھی اب خطرے میں ہے۔ درعا گورنری پر باغیوں کا قبضہ دمشق پر قبضے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق شامی فوج کو رواں سال کے دوران باغیوں کے ہاتھوں بدترین جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی افرادی قوت کم اور باغیوں کی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اسد خاندان میں اختلافات

صدر بشارالاسد کے خاندان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات نے بھی ان کی حکومت کے مستقبل پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ حال ہی میں شامی حکومت کے ایک دست راست رستم غزالی کی پراسرار ہلاکت نے اسد خاندان میں اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل صدر کے خالد زاد حافظ مخلوف کی دمشق سیکیورٹی کمانڈ کے چیف کےعہدے سے برطرفی، ان کے شام سے فرار اور صدر کے چچا زاد منذرالاسد کو بغاوت کے الزام میں جیل میں ڈالے جانے سے اسد خاندان میں اختلافات میں غیر معمولی حد تک اضافہ کردیا تھا۔

امریکی اخبار نے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بشارالاسد کے خاندان میں اس وقت بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہوچکی ہے۔ اگر فوج کی بڑی تعداد صدر اسد کا ساتھ چھوڑی دیتی ہے جس کا امکان بھی موجود ہے تو وہ اپنا اقتدار بچانے میں ناکام ہوجائیں گے۔

ادھر دوسری جانب ایران اب بھی صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے اب بھی دمشق کی مالی اور عسکری مدد کر رہا ہے۔ دمشق پرعائد عالمی اقتصادی پابندیوں میں اگر کسی نے اب تک بشارالاسد کو سقوط سے بچائے رکھا ہے تو وہ ایران ہے جس کا پیسہ اور اسلحہ اب تک ان کے کام آ رہا ہے۔

شام میں سابق امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ خارج از امکان نہیں کیونکہ فوج میں پھوٹ، محاذ جنگ میں مسلسل شکست اور اقتصادی بحران وہ بنیادی اسباب ہیں جو بشارالاسد کا دھڑن تختہ کرسکتے ہیں۔ سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے زوال کی علامات اب ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔