.

شام :ادلب میں نئے کیمیائی حملے کی اطلاع

ہیلی کاپٹر سے دو بیرل بم گرائے جانے کے بعد کلورین گیس کا اخراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حکومت مخالف کارکنان نے شمال مغربی صوبے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے ایک نئے حملے کی اطلاع دی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی ہے۔

ادلب سے تعلق رکھنے والے متعدد گروپوں نے اطلاع دی ہے کہ شامی حکومت کے ہیلی کاپٹروں نے بدھ کو قصبے سراقب میں دو بیرل بم برسائے ہیں۔ان سے کلورین گیس کا اخراج ہوا ہے جس سے متعدد افراد بے ہوش ہوگئے ہیں۔

شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق بیرل بموں کے حملے میں بارہ افراد بے ہوش ہوئے ہیں۔ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے اور اقوام متحدہ میں شامی مشن نے بھی رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ خالد خوجہ کا کہنا ہے کہ انھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے نئے حملے سے متعلق اطلاعات ملی ہیں۔انھوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اب اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔

سلامتی کونسل نے گذشتہ ماہ شام سے متعلق ایک قرارداد منظور کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ اگر اب شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔کونسل نے اسی ماہ کے اوائل میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے ایک شامی ڈاکٹر کا بھی بیان ریکارڈ کیا تھا۔انھوں نے بتایا تھا کہ متاثرہ افراد نے حملے سے قبل فضا میں ہیلی کاپٹر اڑنے کی آواز سنی تھی۔

امریکا اور سلامتی کونسل کے دوسرے رکن ممالک بار بار شامی حکومت پر کیمیائی حملوں کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران اسد حکومت کے تحت فوج کے سوا کسی گروپ کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اور ان ہیلی کاپٹروں ہی کو زہریلے کیمیائی مواد کو گرانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

شام اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے درمیان 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن کلورین کو کیمیائی ہتھیار قرار نہیں دیا گیا تھا کیونکہ اس کو صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کی سربراہ اینجیلا کین نے اپریل کے اوائل میں کہا تھا کہ ان کے ادارے نے شام میں کلورین گیس کے حملوں سے متعلق حالیہ الزامات کی ابھی تحقیقات شروع نہیں کی ہیں۔

او پی سی ڈبلیو نے مارچ کے آخر میں شام کے شمال مغربی علاقوں میں کلورین گیس کے حملوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے بھی اس ادارے سے کلورین گیس کے کیمیائی ہتھیار کے طور پر استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ میں شام میں کلورین گیس کے استعمال کے خلاف امریکا کی جانب سے پیش کردہ مذمتی قرار داد منظور کی تھی اور مستقبل میں کیمیائی حملوں کی صورت میں شام کے خلاف پابندیوں اور فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔اس قرارداد میں شام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے تحقیقاتی مشن کے ساتھ تعاون کرے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ادلب کے ایک گاؤں سرمین میں زہریلی گیس کے حملے میں تین کم سن بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شامی فوج نے اس گاؤں پر ایک بیرل بم گرایا تھا اور مقامی ڈاکٹروں کے بہ قول اس سے ممکنہ طور پر کلورین گیس کا اخراج ہوا تھا جس سے ان افراد کی اموات ہوئی تھیں۔