.

الانبار اور بغداد میں تباہ کن بم حملے،26 افراد ہلاک

فلوجہ کے نزدیک کاربم دھماکوں میں ٹرین اسٹیشن مکمل طور پر تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار اور دارالحکومت بغداد میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران تباہ کن کار بم دھماکوں میں بارہ فوجیوں سمیت چھبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

الانبار میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے مضبوط گڑھ فلوجہ سے پندرہ کلومیٹر مشرق میں واقع قصبے جرما میں اتوار کو ایک ٹرین اسٹیشن پر عراقی فورسز پر متعدد کار بم حملے کیے گئے ہیں۔ان میں بارہ اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک افسر نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو فون کے ذریعے بتایا ہے کہ باردو سے بھری پانچ کاریں ٹرین اسٹیشن میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں اور حملہ آوروں نے ان کاروں کو بم دھماکوں سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں اسٹیشن کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔

اس افسر نے بتایا ہے کہ ان بم حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بارہ سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جارہا ہے اور فوج کی کمک علاقے کی جانب روانہ کردی گئی ہے۔ان بم دھماکوں کے بعد عراقی فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

قبائلی ذرائع نے جرما میں بم حملے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ فوری طور پر داعش یا کسی اور گروپ نے اس تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن بم حملے کے انداز اور طریق کار سے لگتا ہے کہ یہ داعش ہی کی کارروائی ہے۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں ہفتے کی رات ایک ریستوراں اور ایک گیس اسٹیشن کے نزدیک دو کاربم دھماکے ہوئے ہیں۔ان میں چودہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دونوں بم دھماکے بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے الکرادہ میں ہوئے ہیں۔عراقی دارالحکومت کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں قبل ازیں بھی اس طر ح کے بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔