.

شامی فوج اور باغیوں میں دمشق کے نواح میں لڑائی

اسدی فوج کا مشرقی غوطہ کی جانب جانے والی اہم شاہراہ پر قبضے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے دارالحکومت دمشق سے مشرق میں واقع علاقے میں باغیوں کا دائرہ مزید تنگ کر دیا ہے اور ان کو سامان رسد مہیا کرنے والے روٹ کو منقطع کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ علاقے میں اسدی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''شامی فوج نے مشرقی غوطہ کی جانب جانے والی بڑی شاہراہ پر قبضہ کر لیا ہے''۔ اس شاہراہ پر قبضے کے بعد باغیوں کے لیے سامان رسد کے تمام اہم راستے مسدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ فوجی یونٹوں نے اس شاہراہ پر واقع گاؤں مائدہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ باغی اسی گاؤں کو محاصرہ زدہ علاقوں تک خوراک اور کمک پہنچانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ نے ایک فوجی افسر کے حوالے سے فوج کے مائدہ پر مکمل کنٹرول کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ''لڑائی میں بہت سے دہشت گرد مارے گئے ہیں اور فوجی یونٹوں نے مشرق کی جانب جانے والے راستے کو بند کر دیا ہے''۔

صدر بشار الاسد کی وفادار فوج نے گذشتہ قریباً دو سال سے مشرقی غوطہ کا محاصرہ کر رکھا ہے لیکن وہ وہاں باغی جنگجوؤں کو لڑائی میں شکست سے دوچار نہیں کر سکی ہے اور وہ میدان جنگ میں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے اہم شاہراہ پر قبضے کے باوجود باغی جنگجو مشرقی غوطہ کی جانب جانے والے چند ایک چھوٹے مگر دشوار گذار راستوں کو اب بھی کمک پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مائدہ میں شامی فوج اور علاقے میں سب سے طاقتور باغی گروپ جیش الاسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان ابھی شدید لڑائی جاری ہے۔

جیش الاسلام کے ترجمان اسلام علوش نے مائدہ پر شامی فوج کے قبضے کی تصدیق نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے اس گاؤں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی لیکن باغیوں نے ان پر جوابی حملہ کر دیا۔

انھوں نے ترکی سے ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ ''ابھی جھڑپیں جاری ہیں لیکن اگر آرمی مائدہ پر قبضے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اس کو مشرقی غوطہ پر حملے کے لیے استعمال کر سکتی ہے''۔

واضح رہے کہ شامی فوج گذشتہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ مشرقی غوطہ پر تباہ کن بمباری کر چکی ہے مگر وہ آتش وآہن کی بارش کے باوجود وہاں سے باغی جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ شامی فوج کے محاصرے کے بعد سے وہاں باقی رہ جانے والی مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی دستیاب نہیں رہی ہیں۔