.

لبنان میں داعش سے وابستہ عالم کی گرفتاری

شمالی شہر طرابلس سے جنگجو بھرتی کرکے عراق وشام بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سکیورٹی فورسز نے عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) سے تعلق اور بھرتی کنندہ ایجنٹ ہونے کے شُبے میں ایک عالم کو گرفتار کر لیا ہے۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ ''ابراہیم البرکات کو اتوار کو علی الصباح شمالی شہر طرابلس کے نزدیک سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر اس شہر میں داعش کا مذہبی مفتی ہونے کا الزام ہے''۔

ابراہیم برکات کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔ انھیں لبنان کے شمالی علاقے سے ایک جعلی پاسپورٹ کے ذریعے ترکی کی جانب فرار ہونے ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

ان پر طرابلس میں داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا الزام ہے جو عراق اور شام میں جا کر لڑتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر گذشتہ سال اس سنی اکثریتی شہر میں لبنانی فوج کے یونٹوں پر حملوں کا بھی الزام ہے۔

واضح رہے کہ طرابلس میں 2011ء کے بعد مقامی اہل سنت اور شامی صدر بشار الاسد کے حامی علویوں کے درمیان وقفے وقفے سے خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ لبنان کے اہل سنت شام میں باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اور اہل تشیع بشار الاسد کے حامی ہیں۔

شامی فوج نے اپریل 2014ء میں طرابلس میں استحکام کے لیے ایک سکیورٹی پلان ترتیب دیا تھا جس پر اب عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2014ء میں اس شہر میں ایک لبنانی شخص کی شام میں باغی گروپوں کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں گیارہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔