.

دمشق میں خودکش بم دھماکا، متعدد حملہ آور ہلاک

گنجان آباد علاقے میں شامی فورسز کے اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک خودکش بم دھماکا ہوا ہے۔شامی فوج کے بریگیڈئیر محمد عید نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے شہر کے وسطی علاقے رکن الدین میں فوجی کمک کے سربراہ کو حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔اس علاقے میں بہت سی فوجی عمارتیں واقع ہیں۔

عسکری ذرائع نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خودکش بم دھماکے کے بعد حملہ آور دہشت گرد گروپ کے تمام ارکان کو ان کا پیچھا کرنے کے بعد ہلاک کردیا ہے۔ان ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ بم دھماکے میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

دمشق کے اس گنجان آباد علاقے کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ فوج نے اس جانب آنے والی تمام شاہراہوں کو سیل کردیا ہے۔اس سے متصل ہی حکومت کی اہم تنصیبات اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے واقع ہیں۔سکیورٹی فورسز نے بم دھماکے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار نے ممکنہ طور پر سکیورٹی عہدے داروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی کیونکہ اسی علاقے میں بہت سے سینیر عہدے داروں کی قیام گاہیں ہیں اور شام کے سراغرساں اداروں کے دفاتر بھی یہیں پر ہیں۔

شام کے باغی جنگجو گروپ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ دمشق میں خودکش بم دھماکے کرچکے ہیں۔جولائی 2012ء میں ایک خودکش بم دھماکے میں صدر بشارالاسد کے قریبی معاون اور بہنوئی آصف شوکت ایسے ہی ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران دمشق میں قدرے امن رہا ہے اور باغی جنگجو اس شہر میں دراندازی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں لیکن وہ اس کے نواحی علاقوں سے گاہے گاہے راکٹ حملے اور بم دھماکے کرتے رہتے ہیں۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں دولاکھ سے دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس وقت ملک کی نصف سے زیادہ آبادی در بدر ہے۔ان میں تیس لاکھ سے زیادہ شامی پڑوسی ممالک میں مقیم ہیں۔