.

بشارالاسد رفیق حریری قتل کے منصوبہ ساز ہیں: جنبلاط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سرکردہ سیاسی رہ نماء اور دروز قبیلے کے سربراہ ولید جنبلاط نے شام کے صدر بشارالاسد کو سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ولید جنبلاط نے رفیق حریری قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے بین الاقوامی ٹرائیبونل میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ شام کے صدر بشارالاسد بھی رفیق حریری کے قتل کے منصوبہ سازوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے حزب اللہ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حال ہی میں شامی حکومت کے اہم عہدیدار رستم غزالہ کی پراسرار موت نے بہت سے راز بھی دفن کردیے ہیں۔ اگرغزالہ زندہ ہوتے تو اس بات کی گواہی دیتے کہ رفیق حریری کے قتل میں کون کون ملوث ہے۔

سابق رہ نما کمال جنبلاط کے قتل سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ولید جنبلاط نے کہا کہ ’’معاہدہ طائف‘‘ کے وقت میں شامی رجیم کی واحد سیاسی صف میں شامل تھا۔ کمال جنبلاط جانتے تھے کہ انہیں قتل کردیا جائے گا۔ ان کے پاس اپنے خلاف سازشوں کے ٹھوس شواہد موجود تھے۔ بعد ازاں میرے والد کے قتل کی تحقیقات کرنے والے جج حسن قواص نے مکمل تحقیقات کر کے یہ ثابت کیا تھا کہ کمال کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیقات کی ایک نقل مجھے بھی دی تھی۔

ولید جنبلاط نے کہا کہ ہم الھراوی اور رفیق حریری کے ساتھ مل کر لبنان میں آزادانہ اور مستحکم حکومت قائم کرنا چاہتے تھے مگر لبنان اور شام کے مشترکہ انٹیلی جنس اداروں نے ہمیں اس کی اجازت نہ دی۔ اس وقت لبنانی فوج شامی فوج کی ایک خاتون عہدیدار کے ماتحت تھی اور شامی ایوان صدر کو لبنانی ایمل لحود کنٹرول کررہے تھے۔ سنہ 1995ء میں ایمل لحود ملک کے صدر بن گئے۔ ہمیں یہ بات قطعی نامنظور تھی کیونکہ ہم شام کے کسی ایجنٹ کو اپنے ملک پر مسلط نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔

ولید جنبلاط نے عدالت کو بتایا کہ میرے والد کمال جنبلاط کو شامیوں نے قتل کیا لیکن مجھے مجبور ان کے ساتھ سیاسی مفاہمت کرنا پڑی۔ شام کے ساتھ میرے تعلقات والد کے قتل کے چالیس سال بعد شروع ہوئے۔