.

بیجی ریفائنری میں شدید لڑائی، عراقی فورسز کی کمک روانہ

داعشی جنگجوؤں کے ریفائنری کے ایک حصے پر قبضے کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر بیجی میں واقع ملک کی بڑی آئیل ریفائنری پر قبضے کے لیے دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد وہاں ان کی عراقی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور عراقی فورسز کی مزید کمک وہاں روانہ کردی گئی ہے۔

عراق کے بعض میڈیا ذرائع نے داعش کے بیجی میں واقع آئیل ریفائنری کے ایک بڑے حصے پر قبضے کی اطلاع دی ہے لیکن وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعد معان نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں اس کی تردید کی ہے۔

بیجی شہر صوبہ صلاح الدین میں داعش کے مضبوط گڑھ موصل کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ صلاح الدین کے نائب گورنر عمار حکمت نے بتایا ہے کہ آئیل ریفائنری کا دفاع کرنے والے فوجیوں پر سوموار سے اب تک پے در پے متعدد خودکش کار بم حملے کیے گئے ہیں۔

عراقی حکومت ماضی میں بھی متعدد مرتبہ یہ بیان جاری کرچکی ہے کہ آئیل ریفائنری پر اس کا کنٹرول برقرار ہے لیکن داعش کے جنگجو وقفے وقفے سے اس پر قبضے کے لیے بھرپور حملے کرتے رہتے ہیں۔تاہم ابھی تک وہ اس پر قبضے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

صوبہ صلاح الدین کی حکومت کے ترجمان عادل السامرائی کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کا ریفائنری کے نصف حصے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور وہ فوجیوں کے زیر قبضہ دوسرے حصے کی سپلائی لائن منقطع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جنگجو پیش قدمی کررہے ہیں اور انھوں نے بہت سے حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں کی اس پیش قدمی کے باوجود عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن نے سب اچھا کی رپورٹ دینے کے لیے منگل کو پورے ایک گھنٹے کا پروگرام نشر کیا ہے اور کہا ہے کہ ریفائنری بدستور حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بریگیڈیئر جنرل سعد معان کا اس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ''جنگجوؤں کے لیے ریفائنری پر قبضہ کرنا ناممکن ہے''۔

درایں اثناء امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک نے داعش کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور منگل کو ان کے لڑاکا طیاروں نے بائیس فضائی حملے کیے ہیں۔اس میں آٹھ بیجی اور اس کے آس پاس داعش کے ٹھکانوں پر کیے گئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے الکرادہ میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جہاں دھماکا ہوا ہے ،اس علاقے میں کاروباری مراکز ،ریستوران اور ایک مسجد واقع ہے۔بغداد کے اس علاقے میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بم دھماکے ہو چکے ہیں۔