.

عراق میں کشت وخون جاری،اپریل میں 2500 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں عالمی اوباشوں کی جانب سے جمہوریت اوربنیادی حقوق کی آڑ میں بھڑکائی ہوئی آگ روز مرہ کی بنیاد پر نہتے شہریوں کی جانیں لے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل میں عراق میں ہونے والے کشت وخون کے نتیجے میں 2500 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی یان کوبیش نے بغداد میں ایک پریس بیان میں بتایا کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں بے گناہ عراقی شہری بم دھماکوں، فائرنگ اور بمباری میں نہ مارے جاتے ہوں۔ عراق کے مختلف صوبوں میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جاتے ہیں۔

یو این مندوب کا کہنا تھا کہ شورش زدہ علاقوں سے ہلاکتوں کی جو تعداد موصول ہو رہی ہے وہ حتمی نہیں۔ بالخصوص الانبار گورنری میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کی حقیقی تعداد کا کسی کو علم نہیں ہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے بغداد میں قائم ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اپریل میں پرتشدد واقعات میں 2538 عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے حملوں میں مارے جانے والے 812 شہریوں کی شناخت کی گئی جبکہ 1726 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ جانی نقصان بغداد گورنری میں ہوا جہاں 1165 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ دیالی، کرکوک، صلاح الدین، نینویٰ اور الانبار کا نام آتا ہے جہاں بہ کثرت پرتشدد واقعات پیش آئے۔

بغداد گونری میں اپریل کے دوران 601 شہری جاں بحق ہوئے۔ دیالی میں 88 ہلاک اور 513 زخمی، کرکوک میں 21 ہلاک 249 زخمی، فلوجہ میں 67 ہلاک اور 264 ہوئے۔