لڑائی میں ہزیمت کا مطلب شامی جنگ میں ہار نہیں: بشارالاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ہزیمتیں اور ناکامیاں کسی بھی جنگ کا حصہ ہوتی ہیں لیکن ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پوری جنگ ہی ہار گئے ہیں۔شام کے بعض علاقوں میں میدان جنگ میں سرکاری فوج کی باغی جنگجوؤں کے مقابلے میں حالیہ پے در پے شکستوں کے بعد ان کا یہ پہلا تبصرہ ہے۔

انھوں نے بدھ کو شام کے یوم شہداء کے موقع پر دمشق میں منعقدہ ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''آج ہم ایک جنگ لڑرہے ہیں ،لڑائی نہیں۔جنگ ایک لڑائی نہیں ہوتی بلکہ یہ بہت سی لڑائیوں کا مجموعہ ہوتی ہے''۔

انھوں نے دمشق کے ایک اسکول میں عوام کے درمیان نموداری کے موقع پر کہا کہ ''ہم دسیوں یا سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لڑائیوں کی بات کررہے ہیں اور لڑائی میں پیش قدمی بھی ہوتی ہے اور پسپائی بھی ہوتی ہے،فتوحات اور شکستیں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور نشیب وفراز آتے رہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں گذشتہ ہفتوں کے دوران اسدی فوج کو القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادیوں سے پے درپے شکستوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔اس پر بشارالاسد کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ پُراعتماد رہیں۔

شامی صدر نے خبردار کیا ہے کہ کسی شکست پر مایوسی پھیلانے سے بھی گریز کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ لڑائیوں میں جنگجو پر اعتقاد اور جنگجو کے فتح میں یقین کے سوا کچھ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔اس لیے جب ہزیمت کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں معاشرے کے طور پر اپنا فرض نبھانا چاہیے۔فوج کا مورال بلند کرنا چاہیے اور اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارا مورال بلند کرے اور ہمیں دلاسا دے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں