لبنانی فوج کو النصرۃ کے خلاف لڑائی سے گریز کا مشورہ

النصرۃ محاذ نے یرغمال شیعہ فوجیوں کی ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں سرگرم القاعدہ کی ہم خیال تنظیم النصرۃ فرنٹ نے یرغمال لبنانی شیعہ فوجیوں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ فوٹیج میں دکھائے گئے یرغمال اہلکاروں نے اپنی فوج کو النصرہ کے خلاف لڑائی سے گریز کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر انھوں نے شام کے سرحدی علاقے ’’الجرود‘‘ میں آپریشن شروع کیا تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر مبینہ طور پر النصرہ فرنٹ کی جانب سے پوسٹ کی گئی فوٹیج میں لبنانی فوج کے چھے شیعہ اہلکاروں کو دکھا گیا ہے۔ بہ ظاہر وہ صحت مند اور نفسیاتی طور پر بھی مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں لبنانی فوج کے نام اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’’لبنانی فوج شام اورلبنان کی سرحد پرواقع الجرود کے مقام پر انتہاپسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں آپریشن کا ارادہ رکھتی ہے۔ لبنانی فوج نے اگر ایسا کوئی پلان بنایا ہے تواس پر عمل درآمد سے گریز کرے کیونکہ الجرود میں آپریشن کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں کو قتل اور اغواء کیا جاسکتا ہے۔"

رپورٹ کے مطابق لبنانی شیعہ فوجیوں کی فوٹیج النصرہ فرنٹ کی القلمون شاخ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ہے۔ فوٹیج میں یرغمال سپاہیوں کو سادہ کپڑوں میں دکھایا گیا ہے اور ان کی داڑھیاں بھی بڑھی ہوئی ہیں۔ بہ ظاہر وہ خوش دکھائی دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اُنہیں معلوم ہوا ہے کہ لبنانی فوج میں ان کے ساتھی حزب اللہ کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے الجرود کو سُنی عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ انہیں الجرود میں کسی بھی قسم کے آپریشن سے قبل اس کے خوفناک انجام کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اگر انہوں نے آپریشن شروع کیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ فوجیوں کو قتل اور یرغمال بنایا جاسکتا ہے۔

ایک فوجی نے لبناجی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’حزب اللہ تمہیں جنگ میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ خود حزب اللہ پس منظر میں رہے گی اور لبنانی فوجیوں کو آگے کرے گی۔ میرا مشورہ ہے کہ لبنانی فوجی الجرود میں کسی قسم کے آپریشن میں حصہ نہ لیں کیونکہ یہ حزب اللہ کا منصوبہ ہے‘‘۔

ایک اور فوجی کا کہنا ہے کہ ’’جب تک حالات بدل نہ جائیں اس وقت تک کسی آپریشن میں حصہ نہ لیا جائے۔ کسی بھی آپریشن میں حزب اللہ جنگجوئوں کو فرنٹ لاین پر ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو اور لبنانی فوج تو پخانے سے حزب اللہ جنگجوئوں کی مدد کرے تب بھی یہ معرکہ بہت مہنگا پڑے گا۔"

ایک دوسرے یرغمال فوجی کا کہنا ہے کہ ’’لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور النصرہ فرنٹ کے لیے لبنان میں داخل ہونا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس نے لبنانی وزیردفاع اور آرمی چیف کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی دوسرے گروپ یا ملک کے فریب میں آکر سرحد پر آپریشن سے باز رہیں۔"

لبنانی فوجیوں نے اپنی رہائی کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ لبنانی حکومت ان کی رہائی کے حوالے سے النصرہ فرنٹ کے مطالبات تسلیم کرے۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ لبنانی سیکیورٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عباس ابراہیم ان کے کیس کو خواہ مخواہ الجھا رہے ہیں۔ انھوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ النصرہ فرنٹ کے حراست میں لیے گئے ارکان کو رہاکرے تاکہ ان کی جان بخشی کی راہ ہموار ہوسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں