.

ادلب میں کلورین گیس کے تین حملے ،80 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حکومت مخالف کارکنان اور ایک ڈاکٹر نے شمال مغربی صوبے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے تین نئے حملوں کی اطلاع دی ہے۔ان کے نتیجے میں اسّی سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی ڈاکٹر محمد طناری نے جمعرات کو ادلب کے تین دیہات پر بیرل بموں کے تین حملوں کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے قبل ازیں کیمیائی حملوں سے متاثرہ افراد کا علاج کیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے روبرو ان حملوں کے بارے میں بیان قلم بند کرایا تھا۔

انھوں نے مقامی ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے تین دیہات جنودہ ،قنسفرہ اور کفر بطیخ پر کلورین گیس کے بیرل بم گرائے ہیں۔ان سے کلورین گیس کا اخراج ہوا ہے جس سے متعدد افراد بے ہوش ہوگئے ہیں۔

شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے بھی ٹویٹر پر تین مختلف مقامات پر کلورین گیس کے حملوں کی اطلاع دی ہے اور ایک فیلڈ اسپتال کی تصاویر جاری کی ہیں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔اس گروپ کا کہنا ہےکہ حملے میں انہتر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔حالیہ ہفتوں کے دوران ادلب میں باغی گروپوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد کلورین بموں کے پے درپے حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔شامی فوج کو ادلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور دوسرے گروپوں کے مقابلے میں ہزیمت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر طناری نے بتایا ہے کہ ادلب کے ایک اور گاؤں میں 2 مئی کو کلورین گیس کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے۔قبل ازیں اس کا چھے ماہ کا بچہ بھی اس حملے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔

شام میں کلورین گیس کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود اقوام متحدہ ایسا میکانزم وضع نہیں کرسکی ہے جس سے ان کے ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے۔امریکا شام میں کیمیائی حملوں کے ذمے داروں کے تعیّن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیشتر رکن ممالک بھی امریکا کی حمایت کررہے ہیں۔وہ شامی حکومت پر اپنے ہی شہریوں پر کلورین گیس کے حملوں کے الزامات عاید کررہے ہیں۔تاہم روس کا کہنا ہے کہ کسی بھی فریق پر الزام عاید کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد فراہم کیے جانے چاہئیں۔