.

ترکی : 90 شامی باغیوں کی عسکری تربیت کا آغاز

پینٹاگان تین سال میں 15 ہزار شامی جنگجوؤں کو داعش سے لڑائی کی تربیت دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے سخت گیر جنگجو گروپ عراق وشام سے لڑنے کے لیے شام کے باغی جنگجوؤں کی تربیت کے پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔

امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں ان کے فوجی نوّے شامیوں پر مشتمل ایک گروپ کو تربیت دے رہے ہیں۔انھیں اس عمل کے دوران وظیفہ بھی دیا جائے گا اور میدان جنگ میں لوٹتے وقت مزید مدد دی جائے گی لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ مدد کیا اور کس شکل میں ہوگی۔

اردن کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان شامی باغیوں کی کئی روز قبل تربیت شروع ہوئی تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے امریکی اور مشرق وسطیٰ کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ترکی میں ایک اور مقام پر بھی جلد تربیت شروع کردی جائے گی۔

تاہم امریکی کانگریس کے بعض ارکان اور شامی باغی پینٹاگان کی نگرانی میں اس تربیتی عمل کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام بہت مختصر اور سست روی کا شکار ہے۔پینٹاگان کی پیشین گوئی کے مطابق پندرہ ہزار سے زیادہ شامی باغیوں کو فوجی تربیت دینے اور مسلح کرنے میں تین سال کا عرصہ لگے گا۔

ایش کارٹر پروگرام کی سست رفتاری کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا موقف ہے کہ یہ عمل بہت محتاط طریقے سے آگے بڑھایا جارہا ہے تاکہ امریکا کے تربیت یافتہ باغی جنگجوؤں کے ہاتھوں میدان جنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں نہ ہوں۔

انھوں نے پینٹاگان میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''ہم نے اس تربیتی پروگرام کا آغاز ان لوگوں سے کیا ہے،جن کا انتخاب بڑی احتیاط سے کیا گیا ہے۔ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس کی کامیابی کے بعد اس کو بڑھایا جائے گا''۔

اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد ایسے جنگجو تیار کرنا ہے جو صرف داعش کے مد مقابل ہوں گے کیونکہ امریکا شام کے خلاف حالتِ جنگ میں نہیں ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے زمینی حقائق کے پیش نظر اس بات کا امکان کم نظر آتا ہے کہ نظری طور پر یہ تربیت یافتہ باغی جنگجو صرف داعش کے خلاف جنگ تک ہی محدود رہیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے تربیت یافتہ شامی جنگجو شام کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے مد مقابل بھی آئیں گے جبکہ خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک ترکی اور سعودی عرب کی ترجیح بشارالاسد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے شامی باغیوں کے تربیتی پروگرام کے آغاز کے موقع پر یہ بات تسلیم کی ہے کہ وہ ابھی اس معاملے میں غیر واضح ہے کہ اگر باغی جنگجو ارادی یا غیر ارادی طور پر شامی فوج کے مد مقابل آئیں گے تو وہ ان کی مدد کے لیے کیا کرے گا۔

وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا کہ ''ہم نے ابھی قواعد وضوابط وضع نہیں کیے ہیں لیکن ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں ان کی مدد کے لیے کوئی ذمے داری قبول کرنا ہو گی''۔

امریکا کے ایک سو تئیس فوجی گذشتہ ماہ شام کے اعتدال پسند باغیوں کی تربیت کے لیے ترکی پہنچے تھے۔وہ اپنے ساتھ امریکی ساختہ ہتھیار بھی لائے ہیں جن کے ذریعے شامی باغیوں کو تربیت دی جائے گی۔شامی باغیوں کو ہتھیاروں کے استعمال ،ٹینک شکن ہتھیاروں ،انفینٹری رائفلوں اور مشین گنوں کو چلانے کے بارے میں بتایا جائے گا۔اس فوجی تربیت کے بعد انھیں واپس شام بھیج دیا جائے گا جہاں وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں گے۔

امریکا نے چند ہفتے قبل ہی شامی حزب اختلاف کے قریباً بارہ سو جنگجوؤں کو فوجی تربیت کے لیے مکمل چھان بین کے بعد نامزد کیا تھا۔ انھیں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے پینٹاگان کے وضع کردہ پروگرام کے تحت جدید اسلحہ چلانے کے علاوہ جنگی حربوں کی تربیت دی جائے گی۔اس پروگرام کے تحت ایک سال میں پانچ ہزار سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو تربیت دی جائے گی۔ان میں سے قریباً تین ہزار کو 2015ء کے اختتام تک تربیت یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔