.

شام میں فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں: دائود اوغلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم احمد دائود اوغلو نے شام میں ترک فوج کی مداخلت سے متعلق خبروں کی تردید کردی ہے اور بتایا ہے کہ ترک حکومت ایسا کوئی اقدام اٹھانے نہیں جارہی ہے۔

مقامی ترک اخبار 'حریت' کے مطابق دائود اوغلو کا کہنا تھا "ابھی ایسی کوئی صورتحال سامنے نہیں آئی ہے جس کے نتیجے میں شام کے اندر ترک فوجی مداخلت ناگزیر ہوجائے۔"

اس سے رواں ہفتے ہی ترک حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاستدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتدار میں بیٹھی ہوئی 'جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی [اے کے پی] 7 جون کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے اپنی مقبولیت کو بڑھانے کی خاطر شام میں فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

حزب اختلاف کی جماعت 'ریپبلکن پیپلز پارٹی [سی ایچ پی] کے سیکریٹری جنرل 'کورسل تکین' نے بتایا کہ انہیں ایک انتہائی موثوق ذرائع سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ ترکی شام میں جمعرات یا جمعہ کے روز فوجی آپریشن کا آغاز کردیگا۔

پچھلے انتخابات کی نسبت اس بار حکمران جماعت اے کے پی کو عوام کی حمایت حاصل کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اے کے پی کل ووٹ کا تقریبا 38 سے 45 فیصد حصہ ہی جیت پائے گی۔

دائود اوغلو کا کہنا تھا کہ شام میں صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت نے ایران اور روس کی حمایت کے باوجود ملک کے بڑے حصوں کو کھو دیا ہے۔

موجودہ ترک حکومت دمشق میں قائم اسدی حکومت کی بہت سخت نقاد ہے اور اس نے بشار الاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لئے سرگرم شامی باغیوں کی مسلسل حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ 20 لاکھ کے قریب شامی مہاجر بھی ترکی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

مگر اس سب کے باوجود ترکی نے امریکا کی سربراہی میں انتہاپسند تنظیموں کے خلاف عراق اور شام میں جاری فوجی مہم میں حصہ لینے میں لیت و لعل سے کام لیا ہے جس کے نتیجے میں واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔