.

شام میں ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے ایک دستاویز کے مطابق شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے انسپکٹرز نے ایک غیر اعلان شدہ مقام کے معائنے کے بعد موقع سے جان لیوا وی ایکس اور سیرین گیس کے آثار تلاش کئے ہیں۔

'عالمی ادارہ برائے انسداد کیمیائی ہتھیار' (OPCW) میں لیٹویا کے مستقل نمائندے مارس کلیسانس نے جمعرات کے روز ایک بند کمرے میں ہونیوالی ملاقات میں دیگر وفود کو بتایا کہ یورپی یونین کو شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے کو سبنھالنے کی سعی پر شدید خدشات ہیں۔

کلیسانس نے یورپی یونین کی جانب سے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ "عالمی تنظیم کی ٹیم کی حالیہ رپورٹس میں دکھایا گیا ہے کہ وی ایکس اور سیرین گیس کے آثار میدان جنگ میں پائے گئے ہیں۔"

ادارہ برائے انسداد کیمیائی ہتھیار کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے "یورپی یونین شام میں کیمیکل ہتھیاروں کی موجودگی کے عندیہ پر انتہائی تشویش رکھتی ہے کیوںکہ اس کا مطلب یہی ہوگا کہ شام کے پاس ابھی بھی کیمیائی ہتھیار یا غیر اعلانیہ کیمیائی ہتھیاروں کے ایجنٹ موجود ہیں۔"

اس سے پہلے اگست 2013ء میں دمشق کے مضافات میں سیرین کے حملے کے بعد بین الاقوامی برادری نے صدر بشار الاسد پر دبائو ڈالا تھا جس کے نتیجے میں اس کی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کی کھیپ ضائع کرنے پر آمادہ ہوگئی تھی۔

امریکا نے اس حملے کے بعد دمشق پر فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی مگر کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے منصوبے پر ایسا کرنے سے باز رہا۔

شام میں سے 1300 میٹرک ٹن کیمیائی ہتھیار نکالے جاچکے ہیں جن میں اکثر امریکی بحری جہاز ایم وی کیپ رے پر تلف کئے گئے تھے۔

مگر امریکا نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام میں کلورین گیس کے حملوں کی اطلاع پر تفتیش کا آغاز کرے۔