.

غزہ :اسرائیل کے لیے جاسوسی پر فلسطینی کو 15 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں حماس کے تحت ایک فوجی عدالت نے ایک فلسطینی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں قصوروار قرار دے کر پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

غزہ میں مارچ میں بھی صہیونی ریاست کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے جرم میں دو افراد کو پندرہ، پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔فلسطینی قانون کے تحت اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم ،قتل اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث مجرموں کو سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔

تاہم سزائے موت کے حکم پرعمل درآمد کے لیے فلسطینی صدر کی منظوری ضروری ہے لیکن غزہ میں حماس کی حکومت فلسطینی صدر محمود عباس کی عمل داری کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ ان کی چار سالہ آئینی مدت 2009ء میں ختم ہوگئی تھی۔اس کے بعد فلسطینی علاقے میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد نہیں کرائے جاسکے ہیں۔

حماس کے تحت انقلابی عدالتوں نے گذشتہ موسم گرما میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد متعدد فلسطینیوں کو صہیونی ریاست کے لیے جاسوسی کے جرم میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور انھیں حماس کے سکیورٹی اہلکاروں نے عوامی مقامات پر گولیوں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ایسے ہی ایک واقعہ میں غزہ شہر میں ایک مسجد کے باہر نماز ظہر کے بعد سزایافتہ چھے مبینہ جاسوسوں کو سرعام گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔