.

شامی انٹیلی جنس چیف اسد حکومت مخالف سازش پر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے قومی سراغرساں ادارے ''نیشنل سکیورٹی بیورو'' کے سربراہ علی مملوک کو صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انھیں ان کے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے۔

علی مملوک پر شام میں باغی گروپوں کی حمایت کرنے والے ممالک اور رجیم کے جلا وطن ارکان سے روابط کا الزام عاید کیا گیا ہے۔مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انھوں نے شامی فوج کی شمال مغربی صوبے ادلب میں حالیہ پے درپے شکستوں کے بعد غیرملکی حکومتوں سے روابط استوار کیے تھے۔

ایک ذریعے نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا ہے کہ علی مملوک نے ایک مڈل مین کے ذریعے ترکی کی انٹیلی جنس سے بات چیت کی تھی۔وہ بشارالاسد کے چچا رفعت الاسد سے بھی رابطے میں تھے۔رفعت الاسد کو 1980ء کے عشرے میں اپنے بھائی حافظ الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں جلا وطن کردیا گیا تھا۔

شام کے صدارتی محل سے تعلق رکھنے والے بے نامی ذرائع نے ٹیلی گراف کو بتایا ہے کہ اعلیٰ عہدے داروں میں اب ایران کے بڑھتے ہوئے کردار پر آپس میں سرپھٹول ہورہی ہے اور بہت سے شامی عہدے دار ایران کے ایوان صدر میں بڑھتے ہوئے کردار سے نالاں ہیں۔

علی مملوک کی گرفتاری سے قبل شام کے ایک اور سراغرساں ادارے پولیٹیکل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ رستم غزالہ کی 24 اپریل کو پُراسرار حالات میں موت کی اطلاع سامنے آئے تھی۔انھیں شامی فوج کے ایک جنرل رفیق شہادہ کے وفاداروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔

ایک اور ذریعے نے بتایا ہے کہ اس وقت ایرانیوں نے صدر بشارالاسد کو اپنے نرغےمیں لے رکھا ہے اور صدارتی محل میں زیادہ تر مشیر ایرانی ہی ہیں۔علی مملوک اس کے مخالف تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ شام نے اپنی خود مختاری کو ایران کے ہاں گروی رکھ دیا ہے۔وہ اس صورت حال میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ رستم غزالہ بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔

بعض دوسروں کا خیال ہے کہ ایران شام کے دفاع کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اقتصادی شعبے میں بھی وہ شام کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور بشارالاسد کے وزیرخزانہ کے بہ قول اس نے شام کو پندرہ ارب ڈالرز مہیا کیے ہیں۔

شام میں ایران کی موجودگی خود اس کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ شام کے راستے ہی لبنان میں اپنی اتحادی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو اسلحہ مہیا کررہا ہے۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے شامی امور کے ماہر چارلس لیسٹر کا کہنا ہے کہ ''ایران اس وقت اپنے تیر چلانے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ اس کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ شامی رجیم کا اندر سے ہی دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔اس لیے اب وہ اس کے گرد اینٹوں کی ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کررہا ہے''۔