.

غزہ میں حماس کا اقتدار اسرائیل کے مفاد میں ہے:صہیونی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے ایک جنرل نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کا اقتدار میں رہنا صہیونی ریاست کے مفاد میں ہے کیونکہ اس طرح اس فلسطینی علاقے کو طوائف الملوکی کا شکار ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے میجر جنرل سامی ترجمن کا یہ بیان کثیر الاشاعت اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت میں منگل کو شائع ہوا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل مشترکہ مفادات کے حامل ہیں۔ان کا یہ بیان صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے موقف کے بالکل برعکس ہے۔وہ حماس کے بارے میں سخت نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ان کی حکومت نے حماس کے خلاف گذشتہ سال موسم گرما میں تباہ کن جنگ مسلط کی تھی۔

انھوں نے اسرائیل میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران حماس کو عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامیہ (داعش) کے مشابہ قرار دیا تھا اور اسرائیلی ووٹروں کو ڈراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انھوں نے ان کی جماعت کو ووٹ نہیں دیے تو داعش والے صہیونی علاقوں میں آجائیں گے حالانکہ ان دونوں گروپوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔

جنرل سامی ترجمن نے غزہ کے ساتھ واقع اسرائیل کے سرحدی دیہات کے زعماء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''حماس علاقے میں استحکام چاہتی ہے اور عالمی جہاد نہیں چاہتی ہے۔موجودہ صورت حال میں اسرائیل اور حماس کے مشترکہ مفادات ہیں اور وہ امن وسکون ،ترقی اور خوش حالی چاہتے ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''غزہ کی پٹی میں حماس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔یہ متبادل اسرائیلی دفاعی فورسز ہیں۔اگر (فلسطینی علاقے میں) بدامنی ہوتی ہے تو سلامتی کی صورت حال زیادہ مسائل زدہ ہوجائے گی''۔جنرل سامی غزہ کی پٹی اور مصر کی سرحد کے ساتھ تعینات صہیونی فوج کی کمان کررہے ہیں۔ان کے اس بیان پر اسرائیلی فوج کے ترجمان ،نیتن یاہو کے دفتر یا حماس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے دیہی عمائدین کے ساتھ سوموار کو ہونے والی اس نجی گفتگو میں یہ بھی پیشین گوئی کی تھی کہ حماس اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتی رہے گی اور غزہ میں چند سال کے وقفے کے بعد لڑائی بھی ہوتی رہے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا متبادل یہ ہے کہ ہر ممکن طریقے سے امن اور خاموشی کے عرصے کو تلاش کیا جائے۔انھوں نے دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں کی اس تجویز کو بھی مسترد کردیا ہے کہ اسرائیل کو دوبارہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لینا چاہیے۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے 2005ء میں اڑتیس سال کے بعد غزہ کی پٹی پر اپنا قبضہ ختم کردیا تھا اور وہاں سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

دوسری جانب حماس نے بھی حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔حماس فکری اعتبار سے مصری جماعت اخوان المسلمون سے وابستہ ہے اور اعتدال پسند نظریات کی حامل ہے جبکہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران سخت گیر سلفی اور داعش کے وابستگان بھی سامنے آئے ہیں جو اب خود حماس کے خلاف محاذ آراء ہیں جبکہ وہ ان گروپوں پر یہ زوردے رہی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب راکٹ حملے روک دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے فلسطینیوں کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہوں۔