داعش کا نائب سربراہ ہلاک:عراقی حکومت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے نائب سربراہ ملک کے شمالی علاقے میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراق کے مقامی ٹیلی ویژن چینل السمیریہ نیوز نے بدھ کو وزارت دفاع کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ''تفصیلی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق داعش دہشت گرد گروپ کے نائب سربراہ ابو علاء العفری کو ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے''۔ان پر شمالی شہر موصل کے مغرب میں حملہ کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل تحسین ابراہیم نے نیم سرکاری ٹیلی ویژن عراقیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابوعلاء العفری عبدالرحمان مصطفیٰ محمد کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ان پر شمالی قصبے تل عفر کی ایک مسجد میں اجلاس کے دوران بمباری کی گئی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ تل عفر کی مسجد شہداء میں داعش کے نائب سربراہ سمیت جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد اجلاس میں شریک تھی اور ان میں سے متعدد اس فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔

ابوعلا العفری کی ہلاکت کی خبر سے قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے زخمی ہونے کے بعد وہی اس جنگجو گروپ کے امور چلا رہے ہیں اور خلیفہ البغدادی کو عراق سے شام منتقل کردیا گیا ہے۔ابوعلا العفری طبیعیات کے سابق استاد تھے اور داعش کی شوریٰ کونسل اپنے خلیفہ کے ممکنہ جانشین کے طور دو اور لیڈروں کے علاوہ ان کے نام پر بھی غور کررہی تھی۔اگر ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ داعش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں