.

متنازعہ ’’فیس بک‘‘ پوسٹ،فلسطینی کو 9 ماہ قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں کا سونامی ایک طویل عرصے سے جاری ہے مگر حال ہی میں اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے کسی یہودی شرپسند کی اشتعال انگیزی کا نوٹس لینے کے بجائے ایک فلسطینی نوجوان کو محض اس الزام میں نو ماہ قید کی سزا سنادی ہے کہ اس نےاپنے ’’فیس بک‘‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ شیر کردی تھی جس میں بہ قول عدالت کے یہودیوں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی عدالتی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ ہے جس میں کسی معمولی ’فیس بک‘ پوسٹ کی پاداش میں ایک فلسطینی شہری کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا پانے والے فلسطینی شہری کا تعلق فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت ’فتح‘ سے ہے اور اس کا رہائشی تعلق مقبوضہ بیت المقدس کی العیزریہ کالونی سےبتایا جاتا ہے۔ عدالتی حکم کے تحت ملزم کو نو ماہ کے لیے جیل میں رکھا جائے گا۔ اس دوران اس کا جیل حکام کے ساتھ رویہ اچھا نہ رہا تو اس کو مزید پانچ ماہ قید کاٹنا پڑے گی۔

دوسری جانب فلسطینی نوجوان کے وکیل نے عدلت کی جانب سے دی گئی سزا مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز پرمبنی فیصلہ قراردیا ہے۔ فلسطینی وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ یہودی اشرار تو آئے دن اس طرح کی ایک نہیں ہزاروں اشتعال انگیز پوسٹ شیئر کرتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ انہیں بھی ایسی سزا دی جائے ورنہ فلسطینی نوجوان کو دی گئی سزا عربوں کے ساتھ اسرائیل کے نسلی امتیاز کا مظہر قرار دی جائے گی۔