.

بغداد : بلوائیوں کے حملے میں چار افراد ہلاک

جلوس کے شرکاء نے اعظمیہ میں سنی وقف کی عمارت ،17 مکانوں کو آگ لگادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ جلوس برداروں نے سنی آبادی والے علاقے اعظمیہ میں متعدد عمارتوں اور مکانوں کو نذر آتش کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں چار افراد زندہ جل کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق شیعہ زائرین جمعرات کی شب دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے کی جانب واقع علاقے کاظمیہ میں امام موسیٰ کاظم کے مزار پر جانے کے لیے اعظمیہ کے علاقے سے گزر رہے تھے۔اس دوران جلوس میں شامل بعض شرپسندوں نے سنی وقف کی ایک عمارت پر حملہ کردیا۔انھوں نے اس عمارت کے علاوہ سترہ اور مکانوں کو نذرآتش کردیا ہے۔

عراقی پولیس کے ایک کرنل کا کہنا ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ رات دو بجے کے بعد پیش آیا تھا اور اس وقت یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ ایک خودکش بمبار جلوس میں گھس گیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی مگر جلوس کے شرکاء یہ سمجھے کہ ان پر اعظمیہ کے علاقے سے فائرنگ کی جارہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق نذرآتش کیے جانے والے مکانوں میں چار افراد زندہ جل گئے ہیں۔عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ صبح کے وقت صورت حال پُرامن ہوگئی تھی اور تشدد کے واقعات میں ملوّث متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے جمعرات کی صبح صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بغداد کے دونوں علاقوں کا جائزہ لیا ہے۔واضح رہے کہ ان کی حکومت نے بغداد کے شمال مغربی علاقے کاظمیہ میں امام موسیٰ کاظم کے مزار پر سالانہ اجتماع کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ملک بھر سے وہاں آنے والے شیعہ زائرین کے تحفظ کے لیے پچھہتر ہزار اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔