.

رمادی میں سرکاری عمارتوں پر داعشی پرچم لہرانے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے جنگجوئوں نے جمعہ کے روز عراق کے شہر رمادی میں مقامی حکومت کے دفاتر پر اپنی تنظیم کے جھنڈے لہرا دئیے اور مساجد سے اپنی فتح کے اعلانات کرا دئیے۔

مقامی پولیس کے ذرائع کے مطابق انتہا پسند تنظیم کے جنگجوئوں نے رات کے اندھیرے میں چھ خودکش گاڑیوں کی مدد سے شہر کے وسط تک رسائی حاصل کی جہاں پر الانبار گورنری کا دفتر واقع ہے۔ بغداد سے تقریبا 100 کلومیٹر دور اس شہر کے مختلف حصوں میں جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری ہیں اور حکومتی فورسز ابھی بھی شہر کے مغربی حصے میں ایک فوجی کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

اگر رمادی پوری طرح داعش کے قبضے میں آجاتا ہے تو یہ عراقی وزیر اعظم کی حکومت پر تزویراتی اہمیت کی کاری ضرب ثابت ہوگی کیوںکہ صرف چھ ماہ قبل ہی فوج اور شیعہ ملیشیائوں نے داعش سے تکریت شہر کا قبضہ حاصل کیا تھا۔

انبار کے گورنر صہیب الراوی نے ٹویٹر پر لکھا ہے "رمادی میں صورتحال بہت گھمبیر ہوچکی ہے مگر شہر ابھی تک عراقی فورسز کے قبضے میں اور داعش کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے۔"

ایک عراقی فوجی میجر کا کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی نازک شکل اختیار کرچکی ہے اور انتہا پسندوں نے شہر میں سامان بھیجنے کے واحد راستے پر قبضہ کرلیا ہے جس کے نتیجے میں شہر میں تازہ کمک بھیجنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

میجر کا کہنا تھا "اگر حکومت ہماری مدد کے لئے نئی کمک نہیں بھیجتی اور اتحادی افواج فضائی کارروائیوں سے ہماری مدد نہیں کرتے تو ہم آدھی رات تک شہر کو کھو دیں گے۔ قتل عام شروع ہوجائے اور ہم سب کو قتل کر دیا جائے گا۔ ہم اس شہر کا کئی ماہ سے دفاع کررہے ہیں اور ہمارا انجام اس طرح نہیں ہونا چاہئیے ہے۔"

رمادی ان چند قصبات اور شہروں میں شامل ہے جن پر عراقی حکومت کا قبضہ ہے۔ ان کے علاوہ باقی تمام وسیع صوبے پر داعش کا قبضہ ہوچکا ہے۔ الانبار عراق کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے ساتھ سعودی عرب، شام اور اردن کی سرحدیں لگتی ہے۔