.

شام میں حزب اللہ کے ڈرون طیاروں کے استعمال کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں سے لڑنے والی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے شام کے القلمون شہر میں "جیش الفتح" اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف آپریشن کے دوران بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کے استعمال کیا گیا ہے۔

لبنان میں حزب اللہ کے ترجمان سمجھے جانے والے "المنار" ٹیلی ویژن چینل پر القلمون میں حالیہ دنوں باغیوں کے خلاف ڈرون طیاروں‌کے استعمال کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القلمون کی فضاء میں پرواز کرنے والے ڈرون طیارے کی تصاویر جدید آلات سے لیس کیمرے کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔

حال ہی میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لبنان کی وادی البقاع میں ایک "رن وے" کی تصاویر بھی شائع کی تھیں۔ یہ رن وے مبینہ طور پر ڈرون طیاروں کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس رن وے پر ایران سے حاصل کردہ ڈرون طیاروں کو اتارا جاتا ہے وہیں سے انہیں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے یا جاسوسی کی غرض سے فضا میں بھیجا جاتا ہے۔

دفاعی امور کی کوریج کرنے والے ہفت روزہ جریدہ "آئی ایچ ایس گینز" کی رپورٹ میں‌بھی وادی البقاع میں حزب اللہ کے زیراستعمال ڈرون طیاروں کے"رن وے" کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رن وے آبادی سے دور الھرمل قصبے سے 10 کلو میٹرجنوب اور شام کی سرحد سے 18 کلو میٹر مغرب کی سمت میں واقع ہے۔ رن وے کی چوڑائی 20 اور لمبائی 670 میٹر ہے۔

قابل ذکر رہے کہ چند ہفتے قبل شامی فوج نے لبنان کی سرحد کے قریب القلمون شہر پر باغیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن میں حزب اللہ سمیت کئی دوسرے شیعہ جنگجو بھی شامل تھے۔ القلمون میں شامی فوج نے جدید ترین اسلحہ حتیٰ‌ کہ مننوعہ ہتھیاروں کا بھی بے دریغ استعمال کیا تھا۔ آپریشن میں روسی ساختہ "کورنٹ" میزائل اور باغیوں کی نشاندہی کے لیے جدید کیمروں سے لیس ڈرون طیارے بھی استعمال کیے گئے تھے۔

حزب اللہ کے ڈرون طیارے

لبنانی شیعہ ملیشیا کے ہاں ڈرون طیاروں کا استعمال نیا نہیں بلکہ سنہ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری رہنے والی 35 روزہ جنگ سے بھی پہلے حزب اللہ نے اپنا ایک ڈرون طیارہ مقبوضہ فلسطین کی فضا میں بھیجنے کا دعویٰ کیا تھا۔

حزب اللہ کے دعوے کے بعد اسرائیلی عسکری قیادت کو بھی سخت تشویش ہوئی تھی کیونکہ ڈرون طیارہ شمالی فلسطین کے الجلیل شہر کی فضاء میں دیر تک چکر لگانے کے بعد بہ حفاظت لبنان واپس آگیا تھا۔

اس واقعے کےبعد حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو مزید ڈرون طیارے رکھنے کے اعلان کا حوصلہ ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کو مزید اس نوعیت کے ڈرون طیاروں سے لیس کریں گے۔

اکتوبر 2012ء کو اسرائیل نے جنوبی جزیرہ نما النقب میں حزب اللہ کے ایک ڈرون طیارے کی فضاء میں موجودگی کا دعویٰ‌ کیا۔ اسرائیل کے "ایف 16" جنگی جہازوں نے حزب اللہ کے اس ڈرون طیارے کو گھیرے میں لے کر مار گرایا تھا۔

اسرائیل اور شام میں باغیوں کی جاسوسی کے علاوہ حزب اللہ ڈرون طیاروں کو اندرون ملک اپنے سیاسی مخالفین کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر حزب اللہ کی جاب سے "لبنانی فورس" نامی جماعت کے سربراہ سمیر جعجع کے ہیڈ کواٹر کی جاسوسی کے لیے بھی ایک ڈرون طیارہ حزب اللہ ہی کی جانب سے "معراب" کے مقام پر بھیجا گیا تھا۔اس کارروائی کے ذریعے یہ ثابت کرنا تھا کہ حزب اللہ اندرون ملک کسی بھی قسم کی نقل وحرکت کی نگرانی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگرچہ حزب اللہ کی جانب سے "معراب" میں‌ جاسوس طیارہ بھجوانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم یہ امکانات موجود ہیں کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے علاوہ اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔

بین الاقوامی خفیہ اداروں کی رپورٹس میں‌ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حزب اللہ نے ایران سے جدید ترین بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے حاصل کررکھے ہیں۔ انہی طیاروں کو شام میں القلمون کےمقام پر باغیوں کی تلاش کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے پاس اس وقت "مرصاد1" اور "مہاجر4" نامی ڈرون طیارے ہیں۔ ان طیاروں کی تیاری میں ایرانی ماہرین نے بھی حزب اللہ کے اسلحہ سازوں کی معاونت کی ہے۔"مرصاد 1" اسرائیل کے تمام شہروں میں کہیں بھی مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے خود کش طیارے کے طورپربھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ڈرون طیارہ 40 سے 50 کلو گرام دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکتھا ہے۔ یہ طیارہ نہایت کم بلندی پرپرواز کرتا ہے جس کی وجہ سے راڈار پراسے تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔

ان کے علاوہ حزب اللہ کے پاس"ایوب 2" ماڈل کا بھی ایک ڈرون طیارہ موجود ہے۔ یہ ڈرون طیارہ اپریل 2013ء کو حزب اللہ نے اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا میں گیس پلانٹ کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا تاہم اسرائیلی لڑاکا طیارں نے اسے مار گرایا تھا۔ جو سمندر میں گرکرتباہ ہوگیا۔ اگرچہ"ایوب 2" کو حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا تاہم اس میں ضروری تبدیلی کرکے اسے" خودکش" طیارہ بنایا جاسکتا ہے۔