.

ابوسیاف کےخلاف آپریشن میں شامی حکومت سے تعاون نہیں لیا: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پرسوں جمعہ کے روز امریکی کمانڈوز نے شام کے اندر داخل ہونے کے بعد دولت اسلامی "داعش" کے مرکزی کمانڈر ابو سیاف کو قتل کر دیا ہے مگر اس آپریشن میں‌ شامی حکومت سے کسی قسم کا تعاون حاصل نہیں کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں ابو سیاف نامی داعشی جنگجو کی اسپیشل فورس کے آپریشن میں مارے جانے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ آپریشن شامی حکومت کو بتائے بغیر کیا گیا ہے۔

امریکی حکومت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مقتول داعشی کمانڈر ابو سیاف شحیحہ تیونس سے تعلق رکھتے ہیں۔ فوجی کارروائی میں اس کی ہلاکت کے بعد تیونسی حکام کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے تاہم العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ایک دوسرے ذریعے نے بتایا ہے کہ مقتول داعشی کمانڈر ابو سیاف کا اصل نام نبیل الجبوری ہے اور اس کا تعلق تیونس نہیں بلکہ عراق کے موصل شہر سے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نبیل الجبوری داعشی خلیفہ ابو بکرالبغدادی کا مقرب خاص رہا ہے اور البغدادی نے اسے شام میں تیل کے معاملات کا انچارج مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں اس کی ذمہ داریوں میں توسیع کرتے ہوئے مغربی صحافیوں کے قتل اور آپریشنل کارروائیوں میں بھی شامل کرلیا تھا۔

قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ‌ گیا تھا کہ امریکا کی اسپیشل فورس نے شام میں گھس کر داعش کے کمانڈر ابو سیاف کو قتل کردیا ہے۔ امریکی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 10 دوسرے جنگجوئوں کے مارے جانے کا بھی دعویٰ‌کیا گیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" نے پینٹاگون کے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ داعش کے خلاف شام کے شہر دیر الزور میں کارروائی صدر باراک اوباما کہ ہدایت پر انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول داعشی کمانڈر ابو سیاف تیل کے ذخائر اور اسے بلیک مارکیٹ میں فروخت سے متعلق امور کی نگرانی کررہا تھا۔ اس کے علاوہ ابو سیاف تنظیم کے دیگر اہم امور کا بھی ذمہ دار تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ابو سیاف کے ٹھاکنے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں وہ اپنے کئی دوسرے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

ادھر امریکی اور عراقی فورسز نے ایک مشترکہ کارروائی میں مقتول کمانڈر ابو سیاف کی اہلیہ کو بھی حراست میں لیا ہے جو مبینہ طور پر لوگوں کو داعش کے لیے بھرتی کرنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کو عراق اور شام کی سرحد پر واقع العمر آئل فیلڈ سے حراست میں‌لیا گیا۔ یہ خاتون یرغمال بنائی گئی یزیدی قبیلے کی عورتوں کو فروخت کرنے کا دھندہ بھی چلا رہی تھی۔

"سی این این" کے مطابق امریکی فوج اور داعش کے درمیان ایک دوسری جھڑپ میں شام میں 10 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں تاہم آپریشن میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کارروائی کے بعد امریکی اسپیشل فورس کے اہلکار واپس اپنے اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔

ابو سیاف کوزندہ پکڑنے کی کوشش

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابو سیاف کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم اس مشن میں وہ کامیاب نہیں ہوسکےہیں۔ امریکیوں کا دعویٰ‌ ہے کہ ابو سیاف کے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کے ساتھ مسلسل رابطے تھے۔ آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں کو البغدادی اور ابو سیاف کے درمیان مواصلاتی رابطے کا ایک آلہ بھی ملا ہے۔

ابو سیاف کو نشانہ بنائے جانے کے بعد میں متضاد اطلاعات ہیں۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ابو سیاف کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ٹھکانے سے باہر نکلے جبکہ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی کمانڈر اور امریکی کمانڈوز کے درمیان دو بہ دو لڑائی ہوئی جس میں اسے قتل کردیا گیا۔ امریکی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ کمانڈوز نے براہ راست شام میں داخل ہو کر داعشی کمانڈر کو ہلاک کیا ہے تاہم اس حوالے سے شامی حکومت کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

"سی این این" کے مطابق ابو سیاف کو داعش میں ابو محمد العراقی اور عبدالغنی کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

تاہم ابو سیاف نامی داعشی جنگجو کا نام زیادہ مشہور نہیں تھا۔ اس کے باوجود امریکی اسے داعش کا اہم کمانڈر قرار دے رہے ہیں۔ عموما اس نوعیت کے "ہائی ویلیو ٹارگٹ" کے لیے امریکا کی جانب سے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے استعمال کیے جاتے ہیں یا ان کے منظرعام پر آنے کے بعد فضائی حملے میں انہیں مارا جاتا ہے۔