.

داعش کا شام کے تاریخی شہر تدمر پر راکٹوں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے جنگجوؤں نے شام کے تاریخی شہر تدمر کے رہائشی علاقے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے تدمر کے نواح میں واقع ایک دو ہزار سال قدیم تاریخی جگہ کے نزدیک داعش کے جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔اس جگہ کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے پہلی مرتبہ تدمر شہر پر بڑی تعداد میں راکٹ فائر کیے ہیں۔انھوں نے تدمر کے نواحی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ شہر میں واقع جیل اور تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں۔

شام کے محکمہ نوادرات اور تاریخی آثار کے ڈائریکٹر مامون عبدالکریم کا کہنا ہے کہ اتوار کو دو راکٹ تدمر کے عجائب گھر کے باغ میں گرے تھے۔اس جگہ بہت سے مجسمے مقابر اور دوسرے نوادرات ہیں جنھیں بڑی حفاظت سے رکھا گیا ہے۔تاہم حملے میں ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ شام کی سرکاری فوج اور ان کی حامی ملیشیا داعش کے جنگجوؤں کی شدید مزاحمت کررہی ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز تدمر کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس تاریخی شہر میں لڑائی کے نتیجے میں اب تک قریباً تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔آبزرویٹری نے اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ لڑائی میں ایک سو تئیس فوجی ،داعش کے ایک سو پندرہ جنگجو اور ستاون عام شہری مارے گئے ہیں۔

تدمر میں داعش اور شامی فوج کے درمیان شدید لڑائی سے تاریخی عمارات اور پہلی اور دوسری صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے گرجا گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔

داعش نے وادی فرات میں اپنے مضبوط گڑھ سے دارالحکومت دمشق سے شمال مشرق میں واقع اس شہر کی جانب کمک کو روانہ کردیا ہے۔وسطی صوبہ حمص کے گورنر طلال برازی کا کہنا ہے کہ ''ہم پیشگی حفاظتی اقدامات کررہے ہیں اور شہر سے آبادی کے انخلاء کی صورت میں انسانی امداد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ شام میں لڑائی سے قبل تدمر کی آبادی ستر ہزار نفوس پر مشتمل تھی لیکن داعش کے حملے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد محفوظ مقامات کی جانب جارہی ہے۔ داعش نے عراق میں بہت سے تاریخی آثار ،مجسموں اور نوادرات وغیرہ کو مسمار کردیا تھا اور انھیں بت پرستی کی علامتیں قرار دیا تھا ۔

ان کی ماضی میں تاریخی آثار کو مٹانے کے لیے کی گئی کارروائیوں کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ تدمر میں بھی تاریخی آثار کو تباہ وبرباد کر سکتے ہیں۔مامون عبدالکریم کا بھی کہنا ہے کہ ''میں خوف ودہشت کے سائے میں رہ رہا ہوں۔داعش کے جنگجو عراق کے تاریخی شہر نمرود کی طرح یہاں بھی ہر چیز کو تباہ کردیں گے''۔