.

لبنان : شام نواز سابق وزیر پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایک جج نے شام نواز سابق وزیر میشیل سماحہ کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں قائم مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

لبنان کی ایک فوجی عدالت نے گذشتہ ہفتے میشیل سماحہ کو شام سے لبنان میں دھماکا خیز مواد اسمگل کرنے اور دہشت گردی کے حملوں کی سازش میں ملوّث ہونے کے جرم میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔

میشیل سماحہ شامی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انھیں سنائی گئی اس کم سزا پر لبنانی سیاست دانوں اور عوامی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور عدالتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیر کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کے جرائم کے مقابلے میں بہت کم سزا سنائی ہے۔

لبنان کے اس سابق وزیر کو اگست 2012ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ماہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اقبال جرم کیا تھا اور لبنان میں حملوں کی سازش کی تفصیل فراہم کی تھی۔انھوں نے بتایا تھا کہ شام کے سکیورٹی چیف علی مملوک نے اس سازش کے تانے بانے بُنے تھے۔اس مقدمے میں گذشتہ بدھ کو ایک فوجی عدالت نے انھیں ساڑھے چارسال قید کا حکم دیا تھا۔

اس مقدمے میں شام کے دو اعلیٰ عہدے داروں پر بھی فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ان میں شامی فوج کا ایک سرکردہ جنرل ہے۔لبنان میں شام نوازوں کے خلاف اس طرح کا عدالتی فیصلہ اور انھیں سزا سنائے جانے کا یہ ایک اچھوتا واقعہ ہے کیونکہ ماضی میں شام سے تعلق رکھنے والوں کو سزائیں سنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

شامی عہدے داروں نے ماضی میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی لیکن انھوں نے عدالتی حکم کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔یادرہے کہ شام نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لبنان میں اپنی فوج تعینات کیے رکھے تھے اور وہ لبنانی سیاست میں سے بڑے عامل کا کردار ادا کرتا رہا تھا۔

2005ء میں لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی بیروت میں ایک خودکش بم دھماکے میں اندوہناک موت کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی تھی اور شام کو لبنان سے اپنی فوج کو واپس بلانا پڑا تھا۔اب شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے لبنان میں بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور اس کی سیاست اور معاشرت اسد نواز اور اسد مخالفین میں بٹی ہوئی ہے۔