.

داعش کا مغربی شہر الرمادی پر قبضہ ،عراقی فوج فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے پے در پے حملوں کے بعد عراق کے مغربی شہر الرمادی پر قبضہ کر لیا ہے اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے بھاگ گئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے اتوار کو یکا یک الرمادی کو خالی کردیا ہے جس کے بعد وہاں داعش کے جنگجو قابض ہوگئے ہیں۔عراقی فوج نے گذشتہ سال جون میں جس طرح شمالی شہر موصل کو داعش کی یلغار کے بعد آناً فاناً خالی کیا تھا بالکل اسی انداز میں الرمادی کو بھی خالی کردیا ہے اور داعش کو بآسانی اس شہر پر قبضہ کرنے دیا ہے۔

درایں اثناء فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے الرمادی میں واقع صوبہ الانبار کے آپریشنز کمانڈ سنٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور اب ان کا اس صوبائی دارالحکومت پر قبضہ ہوا ہی چاہتا ہے۔

صوبائی گورنر کے مشیر اور ترجمان مہند حیمور نے اے ایف پی کو بتایا کہ الانبار آپریشنز کمانڈ سنٹر کو خالی کردیا گیا ہے۔بعض سکیورٹی عہدے داروں نے بھی وہاں سے پسپائی کی تصدیق کی ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے رمادی کے باقی حصوں پر قبضہ کرلیا ہے اورانھوں نے شہر کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈا کے محاصرہ کر لیا ہے۔اس شہر میں لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں عراقی بے گھر ہوگئے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد دارالحکومت بغداد کا رُخ کررہی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ جمعہ کے روز شہر کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مقامی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر اپنے سیاہ پرچم لہرا دیے تھے لیکن شہر کے ایک علاقے ملعب پر عراق کی خصوصی فورسز کا ایک دستہ ان کی مزاحمت کررہا تھا۔اس دستے نے آج بھاری جانی نقصان کے بعد علاقے کو خالی کردیا ہے۔

عراق میں گذشتہ سال اگست میں داعش کے خلاف امریکی فوج کے فضائی حملوں اور عراقی فورسز اور پیراملٹری دستوں کی ان کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد رمادی پہلا بڑا شہر ہے جس پر داعش نے قبضہ کیا ہے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے سے قبل رمادی میں متعدد خودکش کار بم دھماکوں کی اطلاع سامنے آئے تھی جن کے نتیجے میں عراقی فورسز کے پندرہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔عراقی حکام کے مطابق ملعب کا دفاع کرنے والے پولیس افسروں پر یکے بعد دیگرے چار خود کش بم حملے کیے گئے تھے۔ان میں دس اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد تین خودکش بمباروں نے اپنی بارود سے بھری گاڑیوں کو لانبار آپریشنز کمانڈ کے داخلی دروازے پر دھماکوں سے اڑا دیا۔اس حملے میں پانچ فوجی ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے۔ بم حملوں کے بعد داعش کے جنگجوؤں اور عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔پھر سرکاری فورسز نے ملعب کا علاقہ خالی کردیا اور داعش نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔

ملعب سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پسپا ہونے والے فوجی اپنے پیچھے قریباً تین فوجی گاڑیاں ،آرٹلری اور آتشیں رائفلوں سمیت ہتھیار بھی چھوڑ گئے ہیں۔اس افسر کے بہ قول لڑائی کے بعد بیس سے زیادہ پولیس اہلکار لاپتا ہیں۔عراق کی وزارت دفاع نے رمادی میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی بھی اطلاع دی ہے مگر اس فضائی حملے کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

الانبار کی صوبائی کونسل کے ایک رکن اثال فہداوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رمادی کا سقوط ہوچکا ہے اور مقامی حکام نے سنی آبادی والے اس شہر میں شیعہ پیراملٹری دستوں کو تعینات کرنے کی سفارش کی تھی۔ شیعہ ملیشیاؤں نے تکریت سے داعش کے انخلاء اور باقی علاقوں سے بھی ان کو پسپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن انھیں الانبار میں فرقہ وارانہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔