.

ادلب: مزاحمت کاروں کا شامی فوج کے اڈے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مزاحمت کاروں نے اسدی فوج کے ایک اور اڈے پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد ان کی خانہ جنگی کا شکار ملک کے اس حصے پر گرفت مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ سرکاری فوجیوں نے اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد المسطومہ میں واقع ملٹری بیس کو خالی کردیا ہے اور وہ اب ایک اور شمالی قصبے الریحہ کی جانب جارہے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فوجیوں کی پسپائی کی ایک اور انداز میں خبر دی ہے اور کہا ہے کہ فوجی بیس پر تعینات دستوں کو الریحہ کا دفاع مضبوط بنانے کے لیے وہاں منتقل کیا جارہا ہے۔

اس فوجی اڈے اور ادلب کے دوسرے علاقوں پر باغی جنگجو گروپوں پر مشتمل اتحاد نے قبضہ کیا ہے۔اس میں شامل احرارالشام کے ایک رہ نما حسام ابوبکر کا کہنا ہے کہ جنگجو اب الریحہ اور دوسرے علاقوں کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھیں گے۔ سرکاری فوج کا ادلب کے جنوب میں واقع الریحہ پر ہی کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

انھوں نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیس کو آزاد کرا لیا گیا ہے اور اب المسطومہ کے مغرب میں لڑائی ہورہی ہے۔یہ بیس صوبہ ادلب کے ایک بڑے شہر جسرالشغور کے مغرب میں واقع ہے۔اس شہر پر اسلامی جنگجوؤں نے اپریل میں قبضہ کر لیا تھا اور اب ان کے لیے صدر بشارالاسد کے آبائی صوبے اللاذقیہ کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔اس ساحلی صوبے میں بشارالاسد کے ہم مذہب علویوں کی اکثریت آباد ہے۔

صوبہ ادلب میں مزاحمت کار صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو ان کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے مسلسل پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے مارچ میں صوبائی دارالحکومت ادلب شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے جیش الفتح کے نام سے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا تھا۔اس میں شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ ،احرارالشام اور جند الاقصیٰ شامل ہیں لیکن اس میں ان کے متحارب سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔