.

بشارالاسد :باغیوں کے خلاف جنگ میں ایرانی حمایت کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ایران کی جانب سے مہیا کی جانے والی مدد و حمایت کو سراہا ہے اور اس کو جنگ میں ''بنیادی ستون'' قرار دیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ایران کی جانب سے شامی عوام کی حمایت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے''۔

واضح رہے کہ شامی صدر اپنی حکومت اور فوج کے خلاف لڑنے والے تمام باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔علی اکبر ولایتی نے ملاقات میں دمشق اور تہران کے درمیان تزویراتی تعلقات کو سراہا ہے جو ان کے بہ قول مغربی سازشوں اور بعض علاقائی ممالک کے الجھاووں سے نمٹنے کے لیے بنیادی ستونوں پر مشتمل ہیں۔

سانا کے مطابق علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران شام کی تمام ذرائع سے حمایت جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ شام کے خلاف ایک چھوٹی عالمی جنگ برپا کردی گئی ہے۔

ان کے دورے سے قبل شامی ایرانی اقتصادی کمیشن کے سربراہ نے دمشق کا دورہ کیا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان بجلی ،صنعت ،تیل اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔

گذشتہ جمعرات کو ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے دمشق کا دورہ کیا تھا اور ایران کی جانب سے شامی حکومت کو حمایت کا یقین دلایا تھا۔

ایران واحد ملک ہے جو 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کی ان کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے بھرپور حمایت کررہا ہے۔ وہ شامی حکومت کو باغیوں کی سرکوبی کے لیے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مہیا کررہا ہے لیکن شامی فوج ایران کی افرادی قوت اور اسلحے کی امداد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی معاونت کے باوجود باغیوں کے خلاف جاری لڑائی میں کسی نمایاں پیش قدمی میں ناکام رہی ہے اور اس کو حالیہ ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں پے درپے شکستوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

ایرانی اور شامی حزب اختلاف کے ذرائع اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق تہران نے سیکڑوں فوجی ماہرین کو شام میں بھیج رکھا ہے۔ان میں پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سینیر کمانڈرز اور اندرونی اور بیرونی خفیہ سروسز کے اہلکار شامل ہیں۔ایران کے ایک سابق عہدے دار کے بہ قول ایرانی فورسز شام میں فعال ہیں۔القدس فورس شام میں انٹیلی جنس معلومات جمع کررہی ہے اور اس کو ایران اپنی ترجیح قراردیتا ہے۔تاہم بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام میں موجود القدس فورس اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہیں اور وہ صرف باغیوں کے خلاف جنگ میں حربی حکمت عملی وضع کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔