.

عراق: داعش کا صوبہ الانبار کے ایک اور قصبے پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی سردار نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے ایک اور قصبے حصیبہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں کی اس ہفتے کے دوران عراقی فورسز کے مقابلے میں یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو صوبائی دارالحکومت الرمادی پر قبضہ کر لیا تھا۔

شیخ رفیع الفہداوی نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے رات چھوٹے قصبے حصیبہ پر قبضہ کر لیا تھا اور پولیس اور قبائلی جنگجوؤں نے گولہ بارود اور ہتھیار ختم ہونے کے بعد اس کو خالی کردیا تھا۔

حصیبہ الرمادی شہر سے سات کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج کو لڑائی میں شکست کے بعد پسپا ہونے پر مجبور کیا تھا اور اب عراقی حکومت صوبہ الانبار میں الرمادی پر دوبارہ قبضے کے لیے داعش کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہے اور اس کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ جنگجو بھی حصہ لے رہے ہیں۔

شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل الحشد الشعبی ملیشیا نے گذشتہ ماہ شمالی شہر تکریت پر عراقی فورسز کے دوبارہ قبضے اور داعش کے جنگجوؤں کو وہاں سے مار بھگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن تکریت میں پیش آنے والے واقعات کے پیش نظر اب ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اہل سنت کے آبادی والے اس صوبے میں فرقہ وارانہ کشیدگی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے کیونکہ وہاں کے مکینوں میں پہلے ہی اہل تشیع کی بالادستی والی مرکزی حکومت کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔