.

شام : مزاحمت کاروں کا جسرالشغوراسپتال پر قبضہ

باغیوں کے سخت محاصرے کے بعد شامی فوجی پسپا، بیسیوں ہلاک و زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی باغی گروپوں نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے زیر انتظام ایک اسپتال پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جسرالشغور شہر میں واقع اسپتال پر قبضے کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ بیسیوں افراد وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن وہاں رہ جانے والے افراد کو یا تو قتل کردیا گیا ہے،لڑائی میں وہ زخمی ہوگئے ہیں یا پھر انھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے ہلاکتوں اور یرغمالیوں کے حقیقی اعداد وشمار فراہم نہیں کیے ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق النصرۃ محاذ سمیت جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح نے گذشتہ کئی روز سے جسرالشغور اسپتال کا محاصرہ کررکھا تھا۔شامی صدر بشارالاسد نے اس ماہ کے اوائل میں محاصرہ زدہ فورسز کو رہا کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فوج بہت جلد ان کی بازیابی کے لیے آئے گی۔

اسپتال پر اسلامی جنگجوؤں کے قبضے اور محاصرے کے خاتمے کے حوالے سے النصرۃ محاذ اور شامی حکومت نے متضاد بیانات جاری کیے ہیں۔شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک نشریے میں حسب روایت فوج کی شکست کو فتح کی صورت میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

ٹی وی نے بتایا ہے کہ ''آرمی کامیابی سے ایک حربی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے محاصرے کو توڑنے میں کامیاب رہی ہے۔جسرالشغور اسپتال کا دفاع کرنے والے ہیروز کو ان کے ساتھی فوجیوں سے ملا دیا گیا ہے''۔

النصرۃ محاذ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر فوجیوں کی تباہ شدہ اسپتال سے نکلتے ہوئے تصاویر پوسٹ کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ محاصرے کی سختی کے بعد وہاں سے نکل گئے ہیں۔یہ اسپتال جسرالشغور کے شمال مغرب میں واقع ہے۔اس شہر پر باغی جنگجوؤں نے 25 اپریل کو قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے بعد قریباً ڈیڑھ سو فوجی، بیسیوں شہری ،سرکاری افسر اور ان کے خاندان اسپتال میں محصور ہو کررہ گئے تھے۔باغی گروپوں نے ادلب میں حالیہ ہفتوں کے دوران صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کو پے درپے شکستوں سے دوچار کیا ہے۔انھوں نے صوبائی دارالحکومت ادلب پر 28 مارچ کو قبضہ کر لیا تھا۔گذشتہ منگل کے روز انھوں نے صوبے میں واقع شامی فوج کے سب سے بڑے اڈے مسطومہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔