.

"دریا سے سمندر تک سارا علاقہ اسرائیلی ملکیت ہے"

اسرائیلی دعوی بین الاقوامی برادری سے کئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دائیں بازو کے انتہا پسند خیالات کے پرچارک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کے بیان کے بعد انکشاف کیا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے دریائے اردن اور بحر متوسط کے درمیان تمام علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاھو کی کابینہ میں شامل معاون وزیر خارجہ زیپی ھوٹوفیلی نے حال ہی میں تل ابیب میں واقع دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفارت کاروں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران انہیں ایک فوٹیج دکھائی جس میں انہوں نے مختلف یہودی رہ نمائوں کے تاریخی دعوے بھی دکھائے جن میں کہا گیا تھا کہ "دریائے اردن اور بحر متوسط کا درمیانی علاقہ یہودیوں کی ملکیت ہے۔"

ہوٹو فیلی کا کہنا تھا کہ "ہمیں دریائے اردن اور بحر متوسط کے درمیانی علاقے پر ملکیت کے دعوے پر کوئی شرمندی نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کریں گے۔ یہ علاقہ اس لیے ہمارا ہے کہ ہم یہاں ہی سے آئے ہیں"۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ دریائے اردن اور بحر متوسط کے درمیان مغربی کنارے کا علاقہ بھی آتا ہے۔ غزہ کی پٹی کے بعد یہی وہ علاقہ ہے جسے ممکنہ طور پر مجوزہ فلسطینی ریاست میں شامل کیا جائے گا۔ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کو فلسطینی ریاست کا حصہ بنانے کی مہم جاری ہے اور یہ علاقہ مُسلمہ طور پر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان متنازع سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیلی خاتون وزیر کا نیا دعویٰ ان کے اپنے ماضی کے ان بیانات کی نفی ہے جن میں وہ عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کی حمایت کا اظہار کرنے کے ساتھ یہ تاثر بھی دے چکی ہیں کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو ملا کر ایک خود مختار فلسطینی ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 36 سالہ ھوٹوفیلی اسرائیل میں معاون وزیر خارجہ ہیں جبکہ وزارت خارجہ کا قلم دان تاحال وزیر اعظم نیتن یاھو نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ فیلی لیکوڈ پارٹی کا شمار نسبتاً روشن خیال اور نئی نسل کے رہ نمائوں میں ہوتا ہے۔ لیکوڈ پارٹی کے قدامت پسندانہ خیالات رکھنے والے رہ نما فلسطینی ریاست کے قیام کی کھل کر مخالفت کرتے اور پورے فلسطین کو صہیونی ریاست میں ضم کرتے ہوئے "عظیم تر اسرائیل" کا خواب دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی دفتر خارجہ میں ہونے والی اس تقریب میں شریک بعض غیر ملکی سفیروں نے اسرائیلی وزیر کے دعوے پر افسوس کا اظہار کیا کیونکہ پہلی بار یہ بات سننے کو ملی تھی کہ اسرائیل کی خارجہ سیاست میں یہودی مذہبی رہ نمائوں کا بھی اہم کردار ہے؛ جو فیصلہ مذہبی یہودی کر چکے ہیں۔ اب انہی خطوط پر اسرائیل اپنی خارجہ پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا نقشہ بھی ترتیب دے رہا ہے۔

اسرائیل کی خاتون وزیر نے سفارت کاروں کو قرون وسطیٰ کے دور کے روشی نامی فرانسیسی یہودی مذہبی پیشوا 'ربی' کا واقعہ بھی بیان کیا جس نے تورات کے حوالے سے دریائے اردن اور بحر متوسط کے درمیان کے علاقے پر یہودیوں کی ملکیت کے دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہودی ربی نے یہ کہانی ان الفاظ میں گھڑی کہ "یہاں تک کہ دنیا کی کئی قومیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ تم چور ہو اور غیروں کی زمین پر قابض بن بیٹھے ہو۔[یہودیو] تم کہنا کہ یہ سر زمین خالق کائنات کی ملکیت ہے، اس نے جب چاہا تم سے چھینا اور ہمیں اس کا مالک بنا دیا"۔