.

داعش کا شام کے ساتھ عراق کی بارڈر کراسنگ پر قبضہ

عراقی فورسز کے اہلکارالولید پوسٹ سے ایک اور گذرگاہ کی جانب چلے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے ساتھ واقع عراق کی سرحدی گذرگاہ الولید پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے عراقی فوج اور بارڈر پولیس کے اہلکار بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے تین روز قبل شامی سرحدی کی جانب واقع سرحدی چوکی الطناف پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد عراق کے سرحدی علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز کے لیے صوبہ الانبار میں واقع اس گذرگاہ کی پہرے داری کے لیے تعینات رہنا مشکل ہوگیا تھا۔

صوبہ الانبار کے سرحدی کمیشن کی خاتون سربراہ سواد جاسم نے سرکاری سکیورٹی فورسز کو الولید بارڈر کراسنگ سے واپس بلانے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سکیورٹی فورسز کو کوئی فوجی مدد حاصل نہیں تھی اور ان کی اپنی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ وہ بارڈر کراسنگ کا تحفظ کرسکتے۔اب داعش کا سرحد کے دونوں جانب گذرگاہوں پر کنٹرول ہوچکا ہے''۔

عراقی پولیس کے ایک کرنل کا کہنا ہے کہ سرکاری سکیورٹی فورسز کو عارضی طور پر اردن کی سرحد کے ساتھ واقع طربیل بارڈر کراسنگ کی جانب چلے جانے کا کہا گیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال الانبار اور شام کے درمیان واقع ایک اور بارڈر کراسنگ پر قبضہ کر لیا تھا۔شام اور عراق کے درمیان ایک اور سرحدی گذرگاہ شمال میں کردستان کے ساتھ واقع ہے اور اس پر کرد سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔