.

عراق: داعش کے خلاف کارروائی میں ایرانی فوجی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے اپنے فوجی بھیجے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ایران نے فوج کے ایک چھوٹے دستے کے علاوہ عراق کی بری فوج کے لیے بھاری ہتھیار بھی بھیجے ہیں۔اس فوجی کمک کا مقصد عراقی فورسز کی دفاعی صلاحیت کو تقویت پہنچانا ہے تا کہ وہ شمالی شہر بیجی میں واقع ملک کی بڑی آئیل ریفائنری کا داعش سے قبضہ واپس لے سکے۔

دوامریکی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران ایران نے بیجی کو داعش سے واپس لینے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔امریکی صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران عراقی حکومت کے کنٹرول کے تحت کام کرتا ہے تو امریکا اس کی عراقی تنازعے میں مداخلت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

امریکی فوج نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ عراقی سکیورٹی فورسز اور وفاقی پولیس نے بیجی ریفائنری کے بعض حصوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سریع الحرکت پیش قدمی کی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ بیجی میں داعش کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے والی تمام فورسز عراقی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے تحت کام کررہی ہیں لیکن اس نے ایران کے بیجی آپریشن میں کردار کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔

داعش نے گذشتہ ماہ بیجی ریفائنری پر قبضے کے لیے ایک بھرپور حملہ کیا تھا اور اب اس کا اس کیمپلیکس کے بڑے حصے پر کنٹرول قائم ہے۔عراقی فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں ریفائنری کی مشینری اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی بحالی اور مرمت میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔بیجی ریفائنری پر پہلے ہی چالو حالت میں نہیں رہی ہے۔

عراقی فورسز نے گذشتہ سال نومبر میں داعش کے جنگجوؤں کا ریفائنری پر قبضے کے لیے حملہ پسپا کردیا تھا۔تاہم وہ اس کے ایک حصے پر قبضے میں کامیاب ہوگئے تھے۔گذشتہ ہفتوں کے دوران عراقی فورسز کی وہاں سے دوسرے علاقوں کی جانب منتقلی کے بعد داعش نے پیش قدمی کرتے ہوئے عراق کے تیل صاف کرنے اس بڑے کارخانے کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔