.

شامی فضائیہ کی داعش کے زیر قبضہ تدمر پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے زیر قبضہ قدیم شہر تدمر اور اس کے نواح میں سوموار کو پندرہ فضائی حملے کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو تدمر پر داعش کے قبضے کے بعد سے شامی فوج کی یہ شدید بمباری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں مگر وہ ابھی ان کی تعداد کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔شامی طیاروں نے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے گئے شہر کے مشہور رومی،یونانی آثار کے نزدیک علاقوں کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے شامی فوج کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد تدمر پر قبضہ کر لیا تھا۔ان پر شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

آبزرویٹری نے اتوار کو داعش کے ہاتھوں دوسو سترہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ ان میں چودہ بچوں سمیت سڑسٹھ عام شہری تھے۔ان میں بعض مقتولین کے سرقلم کیے گئے تھے۔رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے قریباً چھے سو افراد کو قیدی بنا لیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے داعش کے ہاتھوں قریباً چار سو شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں زیادہ تر خواتین ،بچے اور ضعیف العمر افراد ہیں۔حکومت نواز روزنامے الوطن نے آج ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے چار سو ہوگئی ہے۔

داعش کا تاریخی شہر تدمر پر قبضے کے بعد شام کے نصف علاقے پر تسلط قائم ہوچکا ہے اور امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملے بھی داعش کی میدان جنگ میں پیش قدمی کو روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ تدمر شام کا پہلا شہر ہے جہاں داعش نے اسدی فوج کو میدان جنگ میں براہ راست شکست دی تھی جبکہ اس نے قبل ازیں دوسرے جنگجو گروپوں کے زیر قبضہ شہر ہی ان سے چھینے تھے۔

اس وقت داعش کا شام کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں پرمکمل کنٹرول ہے اور انھوں نے وہاں اپنی خلافت (حکومت) قائم کررکھی ہے۔تبصرہ نگاروں کے بہ قول داعش اب ایک جنگجو گروپ سے بڑھ کر ایک ریاست کی شکل اختیار کرچکی ہے۔اس کو میدان جنگ میں شکست سے دوچار کرنا اور اس کے زیر قبضہ شام اور عراق کے علاقوں کو واگزار کرانا آسان نہیں رہا ہے اور داعش کے خلاف جنگ اب طول پکڑے گی۔