.

"اسرائیل کو جوہری ہتھیاروں کی 'کلین چٹ' دینے پر امریکا کا شکریہ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے امریکا، برطانیہ اورکینیڈا کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو جوہری اسلحہ سے پاک خطہ قرار دینے کی مصر اور دوسرے عرب ممالک کی مساعی ناکام بنانے پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

اسرائیلی ریڈیو"وائس آف اسرائیل" نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ٹیلیفون کر کے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں مشرق وسطیٰ کو جوہری اسلحہ سے پاک کرنے کے بارے میں ہونے والے اجلاس کو ناکام بنانے میں واشنگٹن نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکا اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنے وعدے پورے کرے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے فورم پر مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سےپاک کرنے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا تاہم امریکا ، برطانیہ اور کینڈا نے بعض شرائط کے تحت مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رکھنے کی تجویز سے اتفاق کیا مگر اسرائیل کے معاملے میں امریکا اور دوسرے ملک مروجہ دوہرے معیار کا شکاردکھائی دیے۔ چنانچہ اسرائیل کے متنازعہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے پرامریکی موقف کے بعد اجلاس ناکام ہوگیا تھا۔

اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہائوس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق نیویارک میں منعقدہ اجلاس میں امریکا نے اسرائیل کی سلامتی کے اپنے عہد کو وفاء کیا ہے۔ امریکا نے اس موقع پرایسا موقف اختیار کیا جس میں اسرائیل کی سلامتی کو درپیش خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے تل ابیب کی دفاعی ضروریات کا دفاع کیا گیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی معاون برائے اسلحہ وعالمی سلامتی روز گوٹمیلر نے نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں اپنے ملک کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "واشگنٹن نے مصر اور بعض دوسرے عرب ممالک کی طرف سے مشرق وسطیٰ کوغیر مشروط طورپرجوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کےلیے ایک نیا معاہدہ کرنے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ذریعے مساعی شروع کرنے کی تجویز مسترد کرکے ایک صائب فیصلہ کیا۔ کیونکہ مصر اور دوسرے ممالک اس کانفرنس کے ذریعے 'معاہدے' کی آڑ میں اپنے محدود مفادات کے حصول کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکا اس نوعیت کے کسی معاہدے کو اپنے اصولوں کے منافی سمجھتا ہے۔

تاہم اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مشرق وسطیٰ کو ہرقسم کے جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی مساعی سے اتفاق کیا اور اس ضمن میں پیش رفت میں ناکامی پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک خطے میں اپنا مخصوص نقطہ نظررکھتے ہیں۔ پورے خطے کووسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشن کو اسی صورت میں کامیاب بنایا جاسکتا ہے جب تمام اسٹیک ہولڈر اس پر متفق ہوں۔

خیال رہے کہ نیویارک میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے مصرکی جانب سے یہ شق شامل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اپنی نگرانی میں ایک کانفرنس طلب کریں جس میں سنہ 2016ء کے آخر تک مشرق وسطیٰ کو تباہی پھیلانے والےہتھیاروں سے پاک خطہ قرار دینے پر بحث کی جائے۔ تاہم امریکا، برطانیہ، اسرائیل اور کینیڈا نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

مبصرین کے خیال میں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو جوہری عدم پھیلائو کا پابند بنانے میں رکاوٹ پیدا کر کے اسرائیل کو ہرقسم کے تباہ کن ہتھیار حاصل کرنے کی 'کلین چٹ' دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور مغرب کا دوہراہ معیار صرف اسرائیل کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلفی کی زد میں سب سے پہلے اسرائیل کا نام آئے گا اورامریکا اسرائیل کو کسی ایسی مشکل میں کبھی نہیں ڈالے گا۔