.

داعش حمص کے دروازے پر، مخالف باغی بڑی جنگ کے لیے تیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے تاریخی شہر تدمر پر دولت اسلامیہ "داعش" کے قبضے کے بعد تنظیم کے پاس اس وقت دمشق، القلمون اور غوطہ جیسے شہروں کی طرف پیش قدمی کا موقع ہے مگر اس سے بڑھ کر "داعش" کے نزدیک حمص کی زیادہ اہمیت بیان کی جاتی ہے۔ تدمر پر قبضے کے بعد غالب امکان یہی ہے کہ "داعش" حمص کا رخ کرے گی جہاں پہلے سے موجود داعش کے مخالف باغی گروپ کسی بڑی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صوبہ حمص کے مشرقی علاقے تدمر پر داعش کا قبضہ "داعش" کے لیے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے یہ گروپ مشرقی شام اور عراق کے بعض شہروں کی طرف بھی آسانی سی پیش قدمی کرسکتی ہے تاہم داعش کے موجودہ "توسیع پسندانہ " نظریے کے مطابق جنگجوئوں کا اگلا ہدف حمص کی شمالی مغربی کالونی الوعر ہوسکتا ہے۔

اس وقت داعش" حمص" سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔ اس لیے اغلب امکان یہ ہے کہ وہ القلمون اور دمشق میں الغوطہ کی جانب پیش قدمی کے بجائے حمص کی طرف بڑھے گی۔

ماہرین کے خیال میں تدمر جیسے تزویراتی اہمیت کے حامل شہر سے شامی فوج کا انخلاء اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود داعش کے لیے چھوڑ جانے سے کئی قسم کے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ شامی فوج جس خاموشی کے ساتھ تدمر سے نکلی اور اسلحہ اور گولہ بارود بھی وہیں چھوڑ گئی ہے اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ شامی فوج اور "داعش" کے درمیان درپردہ کوئی معاہدہ ہے۔ شامی فوج فرار نہیں ہوئی بلکہ اس معاہدے کے تحت شہر رضاکارانہ طور پر داعش کے حوالے کردیا ہے۔

داعش کے تدمر ڈرامائی قبضے کے بعد حمص میں موجود مخالف باغی گروپوں نے بھی انگڑائی لی ہے۔ خاص طور پر حمص کے شمالی علاقے پر کنٹرول رکھنے والے اعتدال پسند باغی گروپوں کی جانب سے اپنے جنگجوئوں کو کسی بڑی جنگ کے لیےتیار کیا جا رہا ہے۔ حمص میں موجود "جیش التوحید" کے علاوہ حرکت احرار الشام اور النصرہ فرنٹ جیسے گروپ داعش کے خلاف ممکنہ پنجہ آزمائی کے لیے تیاری کررہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر شامی فوج نے داعش کے ساتھ خفیہ ڈیل کے تحت تدمر کوخالی کیا ہے تو یہ حمص کے دوسرے باغی گروپوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ شامی رجیم داعش کے ذریعے حمص کے باغی گروپوں کی سرکوبی کرنا چاہتی ہے۔ یوں داعش شامی فوج کے لیے باغیوں کی سرکوبی کے لیے متبادل فوج کا کردار ادا کرسکتی ہے۔

داعش شامی فوج کا آلہ کار

حمص میں سرگرم "جیش التوحید" نامی عسکری تنظیموں کے اتحاد کے ایک عہدیدار امین عبدالقادر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یقین کی حد تک لگ رہا ہے کہ داعش اور شامی فوج کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ ہے کیونکہ شامی فوج داعش کو حمص کے تمام دوسرے باغیوں کے خلاف ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خود شامی فوج حمص میں باغیوں کو شکست نہیں دے سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ کام داعشی جنگجوئوں سے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تدمر سے شامی فوج جس انداز میں نکلی ہے اس سے یہی گمان گذرتا ہے کہ شہر کو کسی سمجھوتے کے تحت داعش کے سپرد کیا گیا ہے۔

کمانڈر امین عبدالقادر کا کہنا تھا کہ داعش کو تدمر میں داخلے کی سہولت دینا اور تنظیم کو بالواسطہ طور پر جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنے کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ حمص کے باغیوں کو شکست سے دوچار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حمص کی شمالی پٹی پر اعتدال پسند انقلابی گروپوں کا کنٹرول ہے لیکن داعش کے ذریعے ہم پر مسلسل دبائو بڑھایا جا رہا ہے۔ حمص کے دوسرے انقلابی گروپ اب از سرنو منظم ہورہے ہیں۔ ہم نے یہ پلان بنایا ہے کہ جس طرح شامی فوج کو حمص سے نکال باہر کیا گیا تھا اسی طرح داعش کو بھی شکست فاش سے دوچار کیا جائے گا۔

ادھر شام کے سیاسی اتحاد کے رکن تیسیر علوش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کے لیے حمص دمشق سے زیادہ اہم ہے کیونکہ شامی حکومت دمشق کے بجائے اب حمص کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتی ہے تاکہ ملک کو تقسیم کیا جاسکے۔ اس لیے داعش اور شامی فوج کےدرمیان کسی خفیہ معاہدے کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حمص دفاعی اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ یہاں پرشامی حکومت کو نہ صرف بڑی تعداد میں افرادی قوت مل سکتی ہے بلکہ یہ صوبہ ساحل سمندر کے ساتھ راستہ بھی مہیا کرتا ہے۔ حمص کی اہمیت کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ صوبہ عراق، اردن اور لبنان کے لیے داخلی دروازہ ہے۔ نیز یہ صوبہ تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل سے بھی ملامال ہے۔ اس کے مقابلے میں دمشق کی اتنی اہمیت نہیں ہے۔

حمص میں باغیوں کے اتحاد کا پہلا تجربہ

دولت اسلامی"داعش" کا ممکنہ اگلا ہدف"حمص" صوبہ ہوسکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر حمص میں موجود عسکری گروپوں نے پہلی بار اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے داعش کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی ہے۔ مختلف عسکری گروپوں نے "جیش التوحید" کے نام اور پرچم تلے خود کو منظم کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ گروپ شامی کی باغی فوج"جیش الحر" کے زیراہتمام کام کررہا ہے جس میں ایمان باللہ بریگیڈ، بریگیڈ313، صقور تلبیسہ، تلبیسہ بریگیڈ، سیوف الحق، حرکۃ احرار شام سے الگ ہونے والے حماۃ بریگیڈ نامی گروپ شامل ہیں۔

"جیش التوحید" کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اب تک 3000 جنگجو اس گروپ میں شامل ہوچکے ہیں۔ جیش التوحید سے وابستہ کارکنوں نے حمص اور اس کے مضافات کے درمیانی 45 کلو میٹر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کانیا عسکری اتحاد جدید اسلحہ سے بھی لیس ہے اور ہم داعش یا شامی فوج کے کسی بڑے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے بھی بھرپور تیاری کررہے ہیں۔

امین عبدالقادر کا کہنا تھا کہ حمص کے تمام عسکری گروپوں کو اس اصول کے تحت مدغم کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے الگ سے نام اور ایجنڈے کو ترک کردیں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ہوجائیں۔

تیسیر علوش کا کہنا ہے کہ حمص میں عسکری تنظیموں کے اتحاد کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ اس سے قبل یہ تمام تنظیمیں انفرادے طورپر لڑتی رہی ہیں۔ تاہم یہ اہم پیش رفت ہے۔ تمام عسکری تنظیمیں متحد ہوکر مقابلہ کریں تو داعش کو شکست دی جاسکتی ہے۔