.

داعش کے جنگجوؤں کی دمشق کی جانب پیش قدمی

شامی فضائیہ کی بمباری کے باوجود سخت گیر جنگجو دارالحکومت کی جانب رواں دواں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کے قدیم شہر تدمر اور اس کے نواحی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے باوجود انھوں نے دارالحکومت دمشق کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے زیر قبضہ قدیم شہر تدمر اور اس کے نواح میں سوموار کو متعدد فضائی حملے کیے تھے لیکن یہ حملے داعش کو دمشق کی جانب بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ تدمر سے دمشق کی جانب جانے والی شاہراہ پر ستر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرچکے ہیں اور اںھوں نے وہاں فاسفیٹ کی کانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ملک میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے داعش کی تدمر اور دمشق کے درمیان شاہراہ پر اس پیش قدمی اور فاسفیٹ کی کانوں پر قبضے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تنظیم نے ایک بڑے علاقے اور اقتصادی مفادات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شامی فوج کے ایک ذریعے نے اتوار کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ فضائیہ نے صوبہ حمص کے مشرق میں واقع تدمر میں داعش کے ایک سو ساٹھ سے زیادہ اہداف کو حملوں میں نشانہ بنایا تھا اور ان کے ہتھیاروں اور مشین گنوں سے لیس گاڑیوں کو تباہ کردیا تھا۔اس ذریعے کا کہنا تھا کہ اب ہم ہر کہیں داعش کا پیچھا کررہے ہیں۔

اس فوجی ذریعے کے بہ قول ان حملوں میں داعش کے متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔السکنہ ، تدمر ،آراک اور الحائل گیس فیلڈز اور تدمر کی جانب شاہراہوں پر داعش کے خلاف فضائی حملوں سمیت فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔شام کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملوں میں داعش کے پچاس سے زیادہ ''دہشت گرد'' ہلاک ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ تمام باغیوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آ رہے ہیں۔

شامی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں چار عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں اور یہ گذشتہ جمعرات کو داعش کے تدمر پر قبضے کے بعد صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی شدید بمباری تھی۔شامی طیاروں نے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے گئے تدمر کے نواح میں واقع مشہور رومی،یونانی آثار کے نزدیک علاقوں کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

داعش کے جنگجوؤں پر شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔آبزرویٹری نے اتوار کو داعش کے ہاتھوں دوسو سترہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ ان میں چودہ بچوں سمیت سڑسٹھ عام شہری تھے۔ان میں بعض مقتولین کے سرقلم کیے گئے تھے۔