.

حزب اللہ کے حامیوں کو شامی سرحد پر جمع ہونے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اپنے جنگجوؤں کو شام کی سرحد سے متصل شورش زدہ قصبے عرسال اور اس کے نواحی دیہات میں جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اپنے جنگجوؤں اور تنظیم کے بہی خواہوں کے نام جاری ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ وہ اتوار کے روز ریاق، الھرمل اور بعلبک کے مقامات پر جمع ہوں اور وہاں موجود حسینیہ النبی شیث، حسینیہ ریاق، حسینیہ العین اور شمسطار میں حسینیہ علی النہری کی حفاظت کریں۔

لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعہ کے رز بعلبک کے مضافاتی علاقے حسینیہ "بوادی" میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔

قبل ازیں حزب اللہ کے سربراہ الشیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ وادی البقاع کے مکین عرسال میں مخالف مسلح عناصر کی موجودگی کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے ملک کے بعض سیاسی رہ نماؤں پر فوج کو شام کی جنگ میں دھکیلنے کا بھی الزام عاید کیا۔

دوسری جانب حزب اللہ کی اپنے جنگجوؤں اور حامیوں کو عرسال کے مختلف مقامات پر جمع کرنے کے اعلان پر سیاسی حلقوں میں سخت تشویش بھی پائی جا رہی ہے۔ لبنانی سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ دانستہ طور پرشورش زدہ علاقوں میں اپنے جنگوئوں اور شدت پسندوں کو جمع کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کو لبنان منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ شام کی سرحد پراپنے جنگجوئوں کوجمع کرنے سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

خیال رہے کہ شام کی سرحد سے متصل عرسال اور دیگر قصبے پچھلے کچھ عرصے سے سخت کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ یہاں پر بعض شامی عسکریت پسند گروپوں نے لبنانی فوجیوں پر حملے کرکے انہیں قتل اور اغواء بھی کر رکھا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ان علاقوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ ایک نئی کشیدگی جنم دینے کا موجب بن سکتا ہے۔