.

موبائل فونز کے ذریعے یمنی مزاحمت کاروں کی جاسوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی موبائل فون سروسز کو حوثی باغیوں اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے والے مزاحمت کاروں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق"یمن موبائل" نامی ایک موبائل فون کمپنی کے ذریعے کا کہنا ہے کہ موبائل فون علی صالح اور حوثی مخالف مزاحمت کاروں کی جاسوسی کا ایک بہترین آلہ ثابت ہو رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"مسند" کے مطابق "یمن موبائل" کےایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ حوثی اور علی صالح کے جنگجو موبائل فون کے ذریعے مزاحمتی کارکنوں کی نقل وحرکت اور ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے بعد ان پرحملے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موبائل فون یمن میں رابطے سے زیادہ جاسوسی کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسند اور علی صالح کے وفادار تمام موبائل فون کالز اور "ایس ایم ایس" کی مانیٹرنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے مخالف باغیوں کی جاسوسی کے لیے ایک آئی ٹی یونٹ تشکیل دے رکھا ہے جو موبائل فون کے ذریعے ہونے والے رابطوں کی دن رات نگرانی کر رہا ہے۔

حوثیوں کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین موبائل فون کالز اور ایس ایم ایس کے ذریعے ہونے والے رابطوں کو باغیوں کے کنٹرول روم کو مہیا کرتے ہیں اور ان معلومات کی روشنی میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔