.

'بن گوریون نے فلسطینیوں کی حیفا میں واپسی روکنے کا حکم دیا تھا'

مکتوب میں گولڈا مائیر کی بیان کردہ روایت کی تردید ہوتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں اسرائیل کے ذرائع ابلاغ میں ملک کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون کے ایک متنازعہ مکتوب کا بہت چرچا ہے۔ اس مکتوب میں انہوں نے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کی جنگ میں صہیونی ریاست کے تسلط میں چلے جانےوالے حیفا شہر سے ھجرت کرنے والے فلسطینیوں کی واپسی روکنے کا حکم دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بن گوریون کے مکتوب کا متن حال ہی میں اخبار"ہارٹز" نے شائع کیا جسے بعد ازاں اسرائیل کے انگریزی اخبار"ٹائمز آف اسرائیل" نے بھی شائع کیا ہے۔ اس مکتوب میں بن گوریون نے حیفا میں سیکرٹری جنرل ورکرز "ابا حوشی" نامی یہودی کو لکھا تھا کہ وہ ھجرت کرنے والے فلسطینیوں کی واپسی روکیں۔ ابا حوشی بعد ازاں 1951ء سے اپنی وفات 1969ء تک حیفا شہر کے میئربھی رہے۔

تاہم اس مکتوب میں اسرائیل کی چوتھی خاتون وزیراعظم "گولڈا مائر" کی اپنی سوانح عمری میں بیان کردہ روایت کی نفی ہوتی ہے۔ گولڈا مائرنے اپنی خود نوشت"میری زندگی" میں گولڈا مائرکے ایک خط کا تذکرہ کیا ہے جس میں گولڈا مائرکے بہ قول بن گوریون نے حیفا سے ھجرت کرنے والے فلسطینیوں کو واپس اپنے علاقوں میں آباد ہونے پرقائل کرنے کا کہا تھا۔

ڈیوڈ بن گوریون کے مکتوب کو دو جون کو مقبوضہ بیت المقدس میں ہونے والی ایک نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

بن گوریون نے"ابا حوشی" نامی جس صہیونی لیڈر کو مکتوب لکھا تھا اس کے بارے میں سنہ 2002ء میں ایک کتاب"ابا حوشی۔۔۔ مرد حیفا" کے زیرعنوان شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ابا حوشی اپنے مخالفین بالخصوص نومولود ریاست[اسرائیل] کی مخالفت کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے پریقین رکھتے تھے۔ حیفا کے عرب باشندوں کے ساتھ بھی انہوں نے بہت سختیاں کی تھیں۔

بن گوریون اور گولڈا مائر کے بیان میں تضاد

ڈیوڈ بن گوریون کے اس خفیہ مکتوب میں اُنہوں نے برطانوی دور حکومت میں فلسطین میں عرب باشندوں کے لیے بنائے گئے پیشہ ورانہ اسکول کو اسرائیلی فضائیہ کی تحویل میں دینے کا بھی حکم دیا تھا۔

عبرانی اخبار"ہارٹز" نے ملک کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون اور اسرائیل کی چوتھی خاتون وزیراعظم گولڈا مائرکے فلسطینیوں کی واپسی یا جبری ھجرت سے متعلق بیانات میں تضاد کا دعویٰ کیا ہے۔ گولڈا مائرنے اپنی یاداشتوں پرمبنی کتاب میں لکھا ہے کہ بن گوریون نے ان سے کہا تھا کہ وہ حیفا سے فرار ہونے والے فلسطینیوں کو واپس لانے کی کوشش کریں۔

وہ مزید لکھتی ہیں کہ وزیراعظم بن گوریون کی جانب سے کہا گیا تھا کہ حیفا سے نقل مکانی کرکے ساحل سمندر پرپہنچنے والے فلسطینیوں کو واپس لانے کی کوشش کی جائے لیکن فلسطینیوں نے واپسی سے انکار کردیا تھا۔

گولڈا مائیرتسلیم کرتی ہیں کہ فلسطینی مہاجرین کا واپسی سے انکارکی وجہ منظم یہودی جھتو پر فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام کا الزام تھا اور فلسطینیوں کو خطرہ تھا کہ وہ واپس آئے تویہودی انہیں بھی حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔

مکتوب کی نیلامی

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والے بن گوریون کے تاریخی ریکارڈ سے ملنے والے مکتوب کو بیت المقدس میں دو جون کو"کیدم" نامی ایک نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ "کیدم" نامی ادارہ سنہ 2008ء میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد اسرائیل کی تاریخی دستاویزات کو محفوظ کرنا اور ان کی نیلامی کا اہتمام کرنا ہے۔بن گورین کے "ابا حوشی" کو لکھے گئے مبینہ مکتوب کو"کیدم" ہی نے نیلامی کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیلامی کے لیے بولی کا آغاز 1800 ڈالر سے ہوگا۔ تاہم اس خط کو کون کتنے میں خریدے گا اس کا فیصلہ دو جون ہوگا۔