.

جنرل سلیمانی کی "زلزال" میزائلوں کے ساتھ عراق واپسی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ملیشیا "القدس فورس" کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ایک بار پھر عراق میں واپس آگئے۔ اس بار ان کی ایران سے واپسی "زلزال" نامی میزائلوں کے ساتھ ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ایک ایسے وقت میں دیکھا گیا ہے جب شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" نے الرمادی شہر پر قبضہ کر رکھا ہے اور عراقی فوج شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کی معیت میں رمادی کی بغاوت کو فرو کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایران کی ایک فارسی ویب سائیٹ "داعش نیوز" نے جنرل قاسم سلیمانی کی عراق آمد کے بعد کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے نیوز ویب پورٹل "دیجربان" نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کی ایران سے عراق واپسی کی خبر شائع کی ہے اور کہا ہے کہ اب کی بار جنرل سلیمانی اپنے ساتھ "زلزال" نامی میزائل بھی لے کرعراق پہنچے ہیں۔

ایران نواز کئی ویب سائیٹس پر جنر ل قاسم سلیمان کو عراق میں شیعہ ملیشیا سے ملتے دکھایا۔ کچھ تصاویر میں بڑے بڑے وہیکلز پر میزائل بھی لدے دکھائے گئے ہیں جنہیں ترپالوں کی مدد سے کیموفلاج کیا گیا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ "زلزال" میزائل ہیں جنہیں رمادی میں "داعش" کو شکست دینے کے لیے عراق پہنچایا گیا ہے۔

ایران حکام کے بیانات میں تضادات

کیا داعش ایران کے لیے خطرہ ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں خود ایرانی حکام کے بیانات میں تضاد تو ہے ہی مگرداعش کی موجودہ حکمت عملی میں بھی اس سوال کا جواب 'نفی' میں دکھائی دیتا ہے۔ مثال کےطورپر عراق کے سنی اکثریت علاقوں میں داعش کےحملے، لیبیا اور سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی داعش کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنا اس بات کاعکاس ہے کہ داعش کو ایران سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ ابھی تک داعش کی جانب سے ایرانی مفادات پر کہیں بھی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہی بات ایران وزیردفاع حسین دھقان بھی کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش ایران کے خلاف کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتی لیے اس لیے ہمیں داعش کی جانب سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔

تاہم دوسری جانب پاسداران انقلاب کے سابق چیف جنر محسن رضائی کہتے ہیں کہ "داعش" ایران کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے اور تہران کو داعش کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔

عراقی شیعہ ملیشیا کا کرداراہمیت کا حامل

عراق کے شہر تکریت میں دولت اسلامی"داعش" کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے جب عراقی فوج ناکام ہوئی تو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے فضائی بمباری کرکے داعش کی شکست کی اور عراقی فوج کی فتح کی راہ ہموار کی۔ جب عراقی فوج تکریت میں زمینی کارروائی کررہی تھی تب شیعہ ملیشیا اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی بھی ان کے ہمراہ تھے مگرانہیں کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔ اس لیے وہ مایوس اور ناکام واپس لوٹے تھے۔ اب رمادی میں درپیش معرکے میں وہ اپنی خراب ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی دوبارہ کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے شیعہ ملیشیا حشدالشعبی کو مطمئن کرنے کے لیے "زلزال" میزائل بھی عراق منتقل کردیے ہیں۔ اوپر سے ایرانی وزیردفاع سمیت پاسداران انقلاب اور اہم حکومتی شخصیات نے بھی رمادی میں داعش کو شکست دینے کے لیے عراقی فوج کے ساتھ بھرپور معاونت کا اعلان کیا ہے۔

پچھلے ہفتے عراقی اور ایرانی وزاء دفاع کے درمیان ملاقات میں رمادی میں داعش کے خلاف فوجی آپریشن کو منتطقی انجام تک پہنچانے پراتفاق کیا گیا تھا۔

رمادی میں داعش کے خلاف آپریشن میں عراق کی شیعہ ملیشیا کا کردار دوبارہ اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ حشدالشعبی کی کمان ایک بار پھر جنرل قاسم سلیمانی کررہے ہیں۔

100 میزائل

ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی تہران سے بغداد جاتے ہوئے اپنے ہمراہ 100 "زلزال" میزائل لائے ہیں۔ یہ میزائل صوبہ الانبار میں "داعش" کے خلاف آپریشن میں استعمال کیے جائیں گے۔

نیوز ویب پورٹل"عصرخبر" کے مطابق جنرل سلیمانی داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں شیعہ ملیشیا کی نہ صرف کمان کررہے ہیں بلکہ وہ براہ راست اس معرکے میں شامل ہیں۔ ویب سائیٹ پر جنرل قاسلم سلیمانی کو عراقی شیعہ ملیشیا"حشدالشعبی" کے کمانڈر ھادی العامری کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عراق میں "زلزال" میزائلوں کی منتقلی کا فیصلہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خصوصی ہدایت پرکیا گیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل جنرل قاسم سلیمانی نے سپریم لیڈر سےملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں یہ طے پایا تھا کہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب داعش کے خلاف جاری آپریشن کے لیے میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ مبصرین کے خیال میں سعودی عرب کی شمالی، مشرقی اور جنوبی سرحدوں کے قریب ایران کے "زلزال" میزائلوں کی منتقلی ایک سوالیہ نشان ہے۔ داعش کی شکست کے یہ بعد ان میزائلوں کا رخ کس طرف ہوگا اس کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

زلزال میزائل

ایران میں "زلزال" نامی میزائل تین سیریز میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ "زلزال 1"، "زلزال 2"، اور "زلزال3" میزائل دراصل روسی ساختہ"فروگ 7" ہی کی نقل پربنائے گئے ہیں۔ ان کے مار کرنے کی صلاحیت درمیانی ہے۔ زلزال 1 زیادہ سے زیادہ 150 کلو میٹرکے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ "زلزال 3" کی رینج 400 کلو میٹر تک ہے۔

ایران میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری میں روس اور شمالی کوریا سے تعاون حاصل کرتا رہا ہے۔ سنہ 2011ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بیونگ یانگ میں منعقدہ ایک فوجی نمائش میں شمالی کوریا کے "نوڈونگ" میزائل کے وار ہیڈ اور ایران کے"شہاب3" کا آپس میں موازنہ بھی کیا گیا تھا۔

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پرعالمی اقتصادی پابندیوں کے بعد چین نے میزائل ٹیکنالوجی میں ایران کے بجائے شمالی کوریا سے تعلق قائم کرلیا تھا جس کے بعد شمالی کوریا میں تیار ہونے والے بعض میزائلوں پر چین کا نام بھی شامل کیا گیا تھا۔ عراق اور ایران کے درمیان سنہ 1981 سے 1988ء تک ہونے والی جنگ میں تہران کو پہلی میزائل کھیپ لیبیا اور شام کی جانب سے مہیا کی گئی تھی۔