.

داعش کی پیش قدمی عالمی ناکامی ہے:عراقی وزیراعظم

سعودی عرب جنگجوؤں کی عراق میں آمدورفت روکنے کے لیے کچھ نہیں کررہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے داعش مخالف جنگ کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اس جہادی گروپ کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کررہا ہے۔انھوں نے اتحاد میں شامل سعودی عرب پر بھی الزام عاید کیا ہے کہ وہ عراق میں غیرملکی جنگجوؤں کی آمدو رفت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کررہا ہے۔

وہ منگل کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک کے اجلاس کے آغاز سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے رہے تھے۔اس اجلاس میں سعودی عرب اور ترکی سمیت قریباً بیس ممالک کے وزراء شرکت کررہے ہیں۔

پیرس اجلاس 17 مئی کو عراق کے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی پر داعش کے قبضے کے تناظر میں ہورہا ہے۔عراقی وزیراعظم کے الزامی بیانات کے برعکس اتحادی ممالک الٹا عراق پر یہ الزام عاید کر رہے ہیں کہ وہ داعش کو میدان جنگ میں شکست دینے کے لیے کچھ نہیں کررہا ہے۔

حیدر العبادی نے داعش کے خلاف لڑائی میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے منصوبے ''ٹریک'' پر ہیں۔انھوں نے ان تجاویز کو بھی مسترد کردیا ہے کہ عراق سیاسی طور پر کچھ نہیں کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں اتحادی ممالک کی جانب سے بہت زیادہ سیاسی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس امر کی وضاحت درکار ہے کہ سعودی عرب ،خلیج ،مصر اور یورپی ممالک کی جانب سے بہت زیادہ دہشت گرد کیوں آرہے ہیں؟ اگر یہ عراق میں سیاسی صورت حال کی وجہ سے ہے تو پھر امریکی ،فرانسیسی اور جرمن جنگجو عراق میں کیوں آرہے ہیں؟

حیدرالعبادی نے دعویٰ کیا کہ ''ان کی فورسز داعش کے خلاف لڑائی میں پیش رفت کررہی ہیں لیکن انھیں عالمی برادری کی جانب سے مزید حمایت درکار ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ''مسئلہ صرف عراق میں نہیں ہے۔ہم اپنے حصے کا کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن داعش کی تخلیق عراق میں نہیں ہوئی تھی''۔

داعش کے خلاف جنگ میں حربی ضروریات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ عراق کو فوری طور پر مزید انٹیلی جنس امداد اور ٹینک شکن توپوں سمیت ہتھیار درکار ہیں مگر ابھی تک اتحادی ممالک کی جانب سے وعدوں کے باوجود عراق کو بہت کم اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اب تک کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے،ہم خود پر ہی انحصار کررہے ہیں اور وہ ایران سے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری کے منتظر ہیں''۔عراقی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ''فضائی مہم ہمارے لیے مفید ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے اور یہ بہت تھوڑے پیمانے پر جاری ہے۔داعش کے جنگجوؤں کی بھی کڑی نگرانی نہیں کی جارہی ہے۔داعش ایک گشتی گروپ ہیں اور وہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے ہیں''۔