.

لبنان میں عراقی شیعہ ملیشیا کی طرز پر عسکری گروپ کا قیام

قبائلی جنگجوئوں پر مشتمل ملیشیا کو "لواء القلعہ" کا نام دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں اہل تشیع مسلک کی منظم عسکری تنظیم حزب اللہ کی اپیل پر شام کی سرحد سے متصل شہر بعلبک میں شیعہ قبائل نے عراق کی "حشد الشعبی" شیعہ ملیشیا کی طرز پرایک نئی عسکری تنظیم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے "لواء القعلہ" [قلعہ بریگیڈ] کا نام مختص کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق لبنان میں شیعہ قبائل کی جانب سے تشکیل کردہ اس نئی ملیشیا کی قیادت "نوح زعیتر"نامی جنگجو کے سپرد کی جا رہی ہے جو علاقے کا بدمعاش اور منشیات کا تاجر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں بعلبک شہر کے الھرمل قبیلے نے بھی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی اپیل پر نو تشکیل کردہ "لواء القلعہ" میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ یہ ملیشیا بہ قول حزب اللہ کے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

لبنانی ذرائع ابلاغ میں "لواء القلعہ" نامی شیعہ ملیشیا کےقیام پربڑی لے دے ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ گروپ حزب اللہ کی سرپرستی میں کام کرے گا اور اسے جلد ہی شام کی سرحد سے متصل شورش زدہ علاقے"عرسال" میں بھی بھیجا جائے گا جہاں وادی البقاع میں پہلے ہی سنی مسلک کی بعض شدت پسند تنظیموں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان مسلسل کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

مبصرین کے خیال میں عرسال اور وادی البقاع میں "لواء القلعہ" کے جنگجوئوں کو بھیجا جانا وہاں پر مزید خون خرابے کو بڑھانے کا موجب بنے گا۔ تاہم عرسال اور وادی البقاع سمیت کہیں بھی شورش کے خاتمے کا واحد راستہ لبنانی فوج کی تعیناتی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی جانب سے بعلبک، عرسال اور وادی البقاع میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے شیعہ ملیشیا کی تشکیل سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ کے اس اقدام کے بعد لبنان کے سنی قبائل بھی متحرک ہوسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حسن نصراللہ کی اپیل پرقائم کردہ شیعہ ملیشیا کی کمان ایک شخص کے سپرد کی جا رہی ہے علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ میں شہرت رکھنے کے ساتھ ساتھ بعلبک کا چھٹا ہوا بدمعاش ہے۔ لبنانی عدالتوں میں اس کے خلاف منشیات، گاڑیوں کی چوری، دہشت گردی، غیرقانونی اسلحہ کی تجار سمیت کئی سنگین نوعیت کے الزمات کے تحت مقدمات قائم ہیں اور لبنانی پولیس اور انٹرپول نے بھی اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔