.

اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی غزہ میں چار اہداف پر بمباری

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کی صبح غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے چار اہداف پر بمباری کی ہے۔فلسطین کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں فوری طور پر کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ان ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے تین تربیتی مراکز کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور چوتھا حملہ جنوبی شہر خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ایک ٹھکانے پر کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں ان میں سے تین حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے ان کے اہداف کی نشان دہی نہیں کی۔اس نے کہا ہے کہ ''گذشتہ روز تین جون کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی شہر عسقلان اور ایک قصبے نیتیووٹ کی جانب دو راکٹ فائر کیے گئے تھے۔یہ راکٹ کھلے میدان میں گرے تھے اور ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا''۔

''اس حملے کے ردعمل میں اسرائیل کی دفاعی فورسز نے غزہ کی پٹی میں تین اہداف کو نشانہ بنایا ہے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔بدھ کی رات اسرائیلی پولیس نے غزہ سے جنوبی علاقوں کی جانب تین راکٹ فائر کیے جانے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ ان کی تلاش کی جارہی ہے کہ وہ کہاں گرے ہیں۔

کسی مزاحمتی گروہ نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس حوالے سے صہیونی ریاست نے یہ عمومی پالیسی اختیار کررکھی ہے کہ وہ ہر راکٹ حملے کا الزام حماس پر عاید کرتی ہے۔خواہ وہ کسی اور مزاحمتی گروپ ہی نے کیوں نہ کیا ہو۔

اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ تازہ راکٹ حملہ غزہ میں حماس اور اس کے مخالف انتہا پسند گروپوں کے درمیان باہمی لڑائی کا بھی شاخسانہ ہوسکتا ہے۔حماس کے تحت سکیورٹی فورسز نے منگل کے روز غزہ شہر میں لڑائی کے دوران ایک سلفی لیڈر کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

حماس نے حالیہ دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں انتہا پسند اسلامی گروپوں کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے اور ان میں زیادہ تر سلفی ہیں۔وہ اسلامی تعلیمات کی کٹڑپن کی حد تک پاسداری کے حامی ہیں اور ان کے حماس کے ساتھ شید اختلافات پائے جاتے ہیں۔وہ حماس کی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے بھی سخت مخالف ہیں اور اس پر اپنے زیر نگیں علاقوں میں اسلامی قوانین کے نافذ نہ کرنے کے بھی الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔