.

مظاہرین کی ہلاکتیں:حسنی مبارک کے دوبارہ ٹرائل کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011ء کے اوائل میں عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

قبل ازیں مصر کی ایک اور عدالت نے معزول صدر کے خلاف قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ خارج کردیا تھا جس کے خلاف ملک کے پبلک پراسیکیوٹر نے اپیل دائر کی تھی اور آج جمعرات کو عدالت کے جج نے یہ اپیل منظور کرتے ہوئے حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

جج نے کہا ہے کہ سابق صدر کے خلاف سنہ 2011ء کے اوائل میں عرب بہاریہ تحریک کے دوران قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا اور ان کے خلاف اس مقدمے کی سماعت پانچ نومبر کو شروع ہوگی۔

حسنی مبارک فروری 2011ء میں اقتدار سے رخصتی کے بعد سے مختلف مقدمات میں تین سال قید بھگت چکے ہیں۔گذشتہ ماہ میں مصر کی ایک عدالت نے انھیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔اس مقدمے کی بھی اعلیٰ عدالت کے حکم پر دوبارہ سماعت کی گئی تھی۔

قاہرہ کی ایک ماتحت عدالت نے معزول صدر کو گذشتہ سال مئی میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز سے زیادہ رقم خرد برد کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق صدر پر الزام تھا کہ انھوں نے صدارتی محل کی تزئین وآرائش کے لیے مختص کی گئی رقم میں غبن کیا تھا اور اس کو ذاتی جائیداد میں اضافے پر خرچ کیا تھا۔ان کے دور حکومت میں کرپشن کی علامت سمجھے جانے والے ان کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک پر بھی یہی رقم خرد برد کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔